ترکیہ اور آرمینیا کی سرحد پر واقع آنی پُل کا ٹینڈر منظور ہو گیا ہے۔
ترکیہ کے وزیرِرسل و رسائل اور انفراسٹرکچر عبدالقادر اورال اوغلو نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ترکیہ اور آرمینیا کی سرحد پر واقع تاریخی آنی پل کی ازسرِنو تعمیر کے لیے ٹینڈر کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
اورال اوغلو نے کہا ہے کہ یہ پل قرونِ وسطیٰ کے اہم تجارتی مراکز میں سے ایک، آنی، میں واقع ہے۔ دسویں صدی میں شاہراہِ ریشم پر تعمیر کیے گئے اور اس وقت صرف ستونوں اور بنیادوں کی شکل میں موجود اِس پل کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا ۔
انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ شاہراہِ ریشم پر محصولاتی چوکی کے طور پر تعمیر کیا گیا یہ پل صدیوں تک مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کی اہم گزرگاہوں میں سے ایک رہا۔پُل، تاریخی اور ثقافتی ورثے کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
اورال اوغلو کے مطابق، پل کی اصل ساخت 80 میٹر لمبی اور 8 میٹر چوڑی تھی۔ یہ دریائے آرپاچائے کے اس مقام پر واقع ہے جہاں دریا ئی پاٹ کی چوڑائی کم ہو کر 36 میٹر رہ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ آنی کے تاریخی آثارکو کہ جن میں یہ پل بھی شامل ہے 21 ثقافتی ورثے کی حیثیت کی حامل عمارتوں اور مقامات کے ساتھ 2016 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس تاریخی عمارت کی بحالی کا مقصد اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔
اورال اوغلو نے مزید کہا ہے کہ ترکیہ اور آرمینیا کے درمیان دستخط شدہ پروٹوکول کے تحت بحالی کے کام مشترکہ کمیشن کی نگرانی اور رابطہ کاری میں انجام دیئے جائیں گے۔






















