مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
دس روزہ لبنان۔اسرائیل جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہو گیا
اسرائیل نے آج "مختلف جارحانہ اقدامات"کر  کے اس تازہ ترین معاہدے کی اوّلین خلاف ورزیاں کی ہیں لہٰذا ملک کے جنوب میں مقیم شہری محتاط رہیں: لبنان مسلح افواج
دس روزہ لبنان۔اسرائیل جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہو گیا
لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی نافذ العمل ہونے کے بعد، صیدا میں بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ / Reuters

لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والا 10 روزہ جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔

 امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ "ہم، دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان بالمشافہ ملاقات کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ تاریخ میں پہلی بالمشافہ ملاقات ہو گی"۔

تاہم، بیروت کے رہائشیوں نے 2024  کے جنگ بندی معاہدے کی تقریباً روزانہ خلاف ورزیوں کی وجہ سے  اسرائیل پر عدم اعتماد کا اظہار کیا  اور امن کی امید ظاہر کرتے ہوئے  محتاط روّیہ اختیار کیا ہے۔

لبنانی فوج نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے آج بروز جمعہ علی الصبح  "مختلف جارحانہ اقدامات"کر  کے اس تازہ ترین معاہدے کی اوّلین خلاف ورزیاں کی ہیں لہٰذا ملک کے جنوب میں مقیم شہری محتاط رہیں۔

یہ جنگ بندی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن نے ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں کیونکہ تہران اس بات پر بضد تھا کہ کسی بھی معاہدے کے حصے کے طور پر لبنان میں جنگ بندی لازمی ہے۔

جنگ بندی کے نفاذ کے ساتھ ہی حزب اللہ کا گڑھ سمجھے جانے والے دارالحکومت بیروت کے جنوبی محلوں میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جنہیں غیر مصدقہ ہونے کی وجہ سے فی الحال  جشن کی لہر قرار دیا جا رہا ہے۔

 بیروت کی ایک 61 سالہ گھریلو خاتون 'جمال شہاب 'نے فائر بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم لبنان میں جنگ بندی پر بہت خوش ہیں کیونکہ ہم جنگ سے تھک چکے ہیں۔ ہم امن و سلامتی چاہتے ہیں۔"

 دوسری جانب ایک کیفے میں بیٹھے وکیل طارق بو خلیل نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ "سب جانتے ہیں کہ  نیتن یاہو پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دباؤ اور جنوبی لبنان میں دشمن فوج کی غلطیوں نے انہیں جنگ بندی پر مجبور کر دیا ہے۔"

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے شروع ہوئی تھی۔ 2 مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ فائرنگ کے بعد لبنان بھی اس جنگ میں شامل ہو گیا تھا۔ اس دن سے تاحال لبنان پر اسرائیلی حملوں اور جنوب میں قبضے کی کوششوں کے نتیجے میں 2,000 سے زائد افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

دریافت کیجیے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں