شام، جس کی پہچان کئی برسوں سے دکھ، تکلیف، آنسوؤں اور جنگ بن چُکی تھی، اب نئی حکومت کے ساتھ دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے اور راکھ سے ایک نئی زندگی شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے… بلاشبہ دمشق کے اس سفر میں ترکیہ اس کے اہم ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے۔
انقرہ صرف عسکری معاملات میں ہی نہیں بلکہ توانائی سے لے کر نقل و حمل، صحت، تعلیم اور سماجی پالیسیوں تک ہر شعبے میں شام کی مدد کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں اٹھائے گئے اہم اقدامات میں سے ایک کان کنی کے شعبے میں طے پانے والی یادداشتِ مفاہمت بھی ہے۔
ترکیہ کے وزیرِ توانائی و قدرتی وسائل آلپ ارسلان بائراکتار کے مئی 2025 کے دورہ دمشق سے شروع ہونے والے اور دونوں جانب اعلیٰ ترین سطح پر سیاسی عزم کی حمایت حاصل کرنے والے اس اہم عمل کا پہلا ٹھوس نتیجہ شام میں کان کنی کے معاہدے پر دستخط کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
شام میں ہونے والے ان دستخطوں کا کیا مطلب ہے؟
درحقیقت یہ مفاہمتی یادداشت محض ایک عام کان کنی کے معاہدے سے کہیں زیادہ گہرے معنی رکھتی ہے…
دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں مل کر آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان شعبوں میں معدنی وسائل اور توانائی کے خام مال کی تلاش بھی شامل ہے۔ یہاں خاص طور پر معدنی وسائل کی تلاش کے لیے ٹیکنالوجیوں اور طریقۂ کار کے تبادلے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔
ایک اور اہم شعبہ ارضی حرارت سے حاصل ہونے والی توانائی یعنی 'جیوتھرمل انرجی' ہے۔ اس کے علاوہ فاسفیٹ سمیت صنعتی خام مال اور نایاب ارضی عناصر کی تلاش کرنے، ان پر تحقیق کرنے، انہیں قابلِ استعمال بنانےاور ان کے انتظام اور حتمی مصنوعات کی تیاری کے لیے مشترکہ منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ فاسفیٹ کے منصوبوں کی ترقی، مالی معاونت، تعمیر اور آپریشن کے مقصد سے ترک سرکاری اداروں، نجی شعبے کی کمپنیوں اور شامی اداروں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی بھی ایک اہم شق ہے۔ اس طرح دونوں ممالک اس اسٹریٹجک شعبے میں سرکاری و نجی شعبے کے باہمی تعاون کی راہ ہموار کریں گے۔
مزید برآں، شام میں پیدا ہونے والے اہم خام مال کی نقل و حمل کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ بھی تعمیر کیا جائے گا۔
زیادہ واضح الفاظ میں کہا جائے تو معاملہ صرف کان کنی کی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہے…
انقرہ اس معاہدے کے ذریعے شام میں اہم خام مال کی ویلیو چین کی ہر اہم کڑی کو صبر اور حکمتِ عملی کے ساتھ تشکیل دے رہا ہے۔ اس کا مطلب ترکیہ اور شام کے درمیان ایک ایسی کثیرالجہتی اقتصادی شراکت داری ہے جو ممکنہ طور پر اس شعبے کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں کو بھی فروغ دے گی۔
غذائی تحفظ کے لیے بھی ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک قدم
اس مقام پر فاسفیٹ کے حوالے سے بھی الگ سے بات کرنا ضروری ہے… جیسا کہ معلوم ہے، شام میں بالخصوص حمص اور تدمر کے آس پاس فاسفیٹ کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں۔ کھلے ذرائع کے مطابق یہاں موجود ذخائر تقریباً 2 ارب ٹن تک ہیں۔ کئی برسوں تک جنگ کی لپیٹ میں رہنے کے باعث شام میں فاسفیٹ کی پیداوار بھی، ظاہر ہے، انتہائی کم سطح پر ہے۔
ترکیہ کے اس عمل میں شامل ہونے کے بعد فاسفیٹ کی پیداوار میں ممکنہ اضافہ خوراک کے شعبے کو بھی براہِ راست متاثر کرے گا۔ فاسفیٹ سے کھاد بنتی ہے، کھاد سے زراعت ہوتی ہے اور زراعت کا براہِ راست تعلق خوراک سے ہے۔ موجودہ دور میں خوراک کی رسد اور غذائی تحفظ، عالمی سطح پر انتہائی اسٹریٹجک صلاحیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، اہم فاسفیٹ برآمد کنندگان کے لیے روس۔یوکرین جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران کے باعث صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے، جس نے اس معاملے کی اہمیت میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔
انقرہ اس معاہدے کے ذریعے ایسے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے جس کے تحت شام اپنے فاسفیٹ کے ذخائر خود نکال سکے، انہیں پراسیس کر سکے اور ضرورت پڑنے پر برآمد بھی کر سکے۔
بلاشبہ برآمدات کے معاملے میں ترکیہ کا ایک اہم فائدہ اس کی بڑی معیشت اور وسیع داخلی منڈی ہے۔ اگر شام میں معاملات درست سمت میں آگے بڑھتے ہیں اور طے شدہ روڈ میپ پر عمل درآمد ہوتا ہے تو انقرہ اس بار مذاکرات کی میز پر ایک خریدار کی حیثیت سے بھی بیٹھ سکتا ہے۔
عراق اور شام کی ترقی میں کلیدی ملک 'ترکیہ'
شام کے ساتھ طے پانے والی یہ مفاہمتی یادداشت دراصل علاقائی ترقی کے حوالے سے بھی خاصی اہم ہے۔ ترکیہ، اپنے ساتھ طویل ترین سرحد والے اس پڑوسی ملک کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دینے کے لیے عملی طور پر آگے بڑھ رہا ہے ۔
تاہم اگر ایک قدم پیچھے ہٹ کر پوری تصویر پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ترکیہ اور عراق کے درمیان گزشتہ عرصے میں اٹھائے گئے اقدامات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ کیونکہ انقرہ کئی برسوں سے جنگوں اور بحرانوں کا سامنا کرنے والے اپنے دوسرے پڑوسی ملک 'عراق' کے ساتھ بھی توانائی سمیت مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک معاہدے کر رہا ہے۔
حاصلِ کلام یہ کہ ترکیہ ، علاقے کی معدنی دولت کو اونے پونے داموں لُوٹنے اور اس میں ناکامی کی صورت میں سیاسی مقاصد کے ساتھ انتشار پھیلانے کے خواہش مند کرداروں سے بالکل برعکس حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
ترکیہ اپنے پڑوسی ممالک شام اور عراق کے ساتھ دوطرفہ مفاد اور "جیت جیت" کی بنیاد پر منصوبے تیار کر رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے ساتھ ترکیہ خطے کے استحکام اور خوشحالی میں اضافہ کر کے ایک زیادہ روشن مستقبل کی جانب پیش قدمی میں اپنے ہمسایہ ممالک کی رہنمائی کر رہا اور اپنی قائدانہ اور محرک ملک کی حیثیت کو بتدریج مزید مضبوط کر رہا ہے۔




















