دنیا
2 منٹ پڑھنے
برطانیہ: ہم اپنے اڈّے نہیں دیں گے
ہم امریکی فوج کو، ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے، برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: برطانیہ
برطانیہ: ہم اپنے اڈّے نہیں دیں گے
ایک B52 بمبار 27 مارچ 1999 کو آر اے ایف فیئر فورڈ پر سروسنگ کے لیے ٹارمک پر کھڑا ہے۔ / Reuters Archive
10 گھنٹے قبل

برطانیہ نے کہا ہے کہ ہم امریکی فوج کو، ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے، برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

دی ٹائمز نے جمعرات کو شائع کردہ خبر میں کہا ہےکہ برطانیہ نے امریکی فوج کو ایران پر حملوں کے لئے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔اس فیصلے نے برطانیہ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر دیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلے پر  تنقید کی ہے۔

ایک طویل عرصے سے نافذالعمل  معاہدوں کی رُو سے  امریکی طیارے صرف برطانوی حکومت کی پیشگی منظوری کے ساتھ گلوسیسٹر شائر کے RAF فیئر فورڈ سے اور بحرِ ہند میں امریکی۔برطانوی  مشترکہ فوجی اڈے ڈیئگو گارسیا سے آپریشن کر سکتے ہیں۔

تاہم لندن نے، کسی واضح قانونی جواز کے بغیر،  ایران  پر حملے میں شمولیت کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے اس فیصلےکے ساتھ ساتھ برطانیہ کے  2025 میں منظور کردہ  اوربشمول   ڈیئگو گارسیا اور چاگوس جزائر  برطانوی انڈین اوشن ٹیریٹری کی حاکمیت موریشس کو منتقل کرنے  پر مبنی معاہدے پر بھی تنقید کی ہے۔

اپنے Truth Social پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے خبردار کیا  ہےکہ "ممکن ہے کہ،  ایک انتہائی غیر مستحکم اور خطرناک رہنما کے ممکنہ حملے کو روکنے کے لئے، امریکہ  کو ڈیئگو گارسیا اور فیئر فورڈ میں واقع ایئر فیلڈ کو استعمال کرنے کی ضرورت پڑ جائے۔  

دونوں ملکوں کے درمیان یہ تنازعہ ٹرمپ کے وزیرِ اعظم کئیر اسٹارمر کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنے الٹی میٹم پر بات کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

اگلے دن، ٹرمپ نے چاگوس معاہدے پر اپنی تنقید کو کسی بھی امریکی عسکری کارروائی میں برطانیہ کے ممکنہ کردار سے جوڑ کر پیش کیا اور کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت برطانیہ کی حمایت قانونی ہو گی اور دعویٰ کیا کہ ایران برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک پر حملہ کر سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب متعدد رخبروں  کے مطابق واشنگٹن خطے میں بڑے پیمانے پر عسکری تعیناتی کر کے ایران پر حملے کی تیاریاں کر رہا ہے۔