دنیا
3 منٹ پڑھنے
آبنائے ہرمز تہران کے زیرِ انتظام ہوگی: قالیباف
آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول ہو گا۔ آبنائے کبھی بھی اپنی قبل از جنگ حالات پر واپس نہیں آئے گی اور بین الاقوامی قانون کی رُو سے اسلامی جمہوریہ ایران کے زیرِ انتظام رہے گی: محمد باقر قالیباف
آبنائے ہرمز تہران کے زیرِ انتظام ہوگی: قالیباف
ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالے گا۔ (تصویر: اے اے/فائل) / AA

ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تہران کے زیرِ انتظام ہوگی۔

ایران کے سرکاری خبر ایجنسی ارنا  کی آج بروز  منگل شائع کردہ خبر کے مطابق امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے مابین جاری جنگ کے خاتمے کے زیرِ مقصد منعقدہ مذاکرات کے بعد جاری کردہ بیان میں قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول ہو گا۔ آبنائے کبھی بھی  اپنی قبل از جنگ حالات پر واپس نہیں آئے گی اور بین الاقوامی قانون کی رُو سے  اسلامی جمہوریہ ایران کے زیرِ انتظام رہے گی"  ۔

قالیباف کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا  ہےکہ سوئس لگژری ریزورٹ برگن اسٹاک میں ہونے والی بات چیت نے "اچھے نتائج" دیئے ہیں۔ میری نظر میں، خاص طور پرآبنائے  پر بات چیت، لبنان کے معاملات، تیل پر پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی رہائی کے سلسلے میں اس سفر سے اچھے نتائج نکلے ہیں"۔

ویڈیو میں قالیباف نے مزید کہا ہے کہ "ظاہر ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام ابھی شروعات میں ہے اور ہمیں اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں"۔

امریکہ انتظامیہ  نے، تہران  کےاقوامِ متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں واپس آنے کی اجازت دینے سے متعلقہ بیان کے بعد،بروز سوموار  ایرانی تیل پر پابندیاں معطل کر دی تھیں۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس بیان کی تصدیق کی تھی۔

معاہدے کے حصے کے طور پر، واشنگٹن ایران کو  طے شدہ درجے تک پابندیوں کی چھُوٹ دے گا اور اس کے منجمد اثاثوں کے ایک حصے کو آزاد کر دے گا۔

"تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ گزرگاہ"

قالیباف نے عمان میں بھی قیام کیا، جو آبنائے  ہرمز کا شریک ملک ہے۔

ایران نے جنگ کے آغاز سے آبنائے ہُرمز کو  بند رکھا ہوا تھا۔ لیکن  پچھلے ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد سے یہ اہم گزرگاہ دوبارہ کھل گئی ہے۔

لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد تہران نے ہفتے  کو  آبنائے کو دوبارہ بند کرنے اعلان کیا تھا۔

پاکستانی اور قطری ثالثوں کےجاری کردہ بیانات کے  مطابق بعد ازاں  تہران اور واشنگٹن نے، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی بحری جہازوں کی سلامتی  اور ممکنہ غلط فہمیوں اور نا پسندیدہ حوادث کے سدّباب کے لئے،  ایک رابطہ لائن قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

بحری سیر و سفر کی نگران فرموں کے اعداد و شمار  کے مطابق آبنائے میں بحری ٹریفک پیر کو بھی جاری رہی۔ آبنائے کی گہما گہمی جنگ کے خاتمے کے لئے  منعقدہ مذاکرات  کا اعلامیہ جاری ہونے سے قبل کے دنوں کے مقابلے زیادہ بلند درجے پر دیکھی گئی ہے۔

دریافت کیجیے