سیاست
2 منٹ پڑھنے
پوتن: روس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا
"ہم 2029 ، 2030 اور نہ ہی 2050 میں حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، مگر اگر ہمیں حملے کا سامنا ہوا تو ہمیں جواب دینا ہو گا۔"
پوتن: روس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا
پیوٹن نے کہا کہ روس پر براہِ راست حملے کی صورت میں تمام ہتھیاروں کا استعمال زیرِ غور آئے گا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ وہ یورپ پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور کہا: "اگر کالیننگراد سمیت روس پر براہِ راست حملہ ہوا تو ہمارے ملک کے پاس موجود تمام ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ ناگزیر اور فوراً زیرِ غور آجائے گا۔"

ولادیمیر پوتن نے دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ولدای مباحثہ کلب کی سالانہ نشست میں روس اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی  سمیت  یوکرین میں جاری جنگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

روسی وزارتِ خارجہ کے کالیننگراد کے بارے میں بیان اور بعض ممالک کو بھیجے گئے خطوط میں شامل عبارتوں   کا دفاع کرتے ہوئے  پوتن نے کہا: "اگر روس سے منسلک  کسی بھی علاقے  پر براہِ راست حملہ ہوا تو ہمارے ملک کے پاس موجود تمام ہتھیاروں کا استعمال ناگزیر اور  فوری ماہیت اختیار کر لے گا۔"

پوتن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ملک کو دھمکانے  کا ارادہ نہیں رکھتے اور کہا: "ہم کسی کو ڈراتے نہیں ۔ روسی وزارتِ خارجہ کا بیان اور بعض ممالک کو بھیجے گئے خطوط دھمکی دینے کے لیے نہیں بلکہ ہمارے خلاف دھمکانے کی کوشش کا جواب ہیں۔"

پوتن نے اعادہ کیا کہ    ہم کسی پر حملے کا منصوبہ نہیں بنا رہے: "نہ 2029 میں، نہ 2030 میں، نہ 2050 میں ہمارے پاس ایسا  کوئی منصوبہ نہیں ، مگر اگر حملہ ہوا تو ہمیں جواب دینا پڑے گا۔ یورپی ممالک کے شہریوں کو یہ بات واضح طور پر سمجھنی چاہیے کہ ہمارے موقف اور اُن کے ممالک   کے بعض سیاسی حکمرانوں کے موقف میں فرق ہے۔"

پوتن نے بتایا کہ روس کے سامنے ایک فریق ہے جس کی آبادی روس  سے  دو گنا ہے اور جس کے پاس بڑی اقتصادی و عسکری صلاحیت موجود ہے، اور کہا کہ ایسے خطرے کے مقابلے میں ہماری طاقت  اور وسائل محدود رہیں گے، اس لیے ہمیں اپنی برتری استعمال کرنا پڑے گی۔

ولادیمیر پوتن نے کہا: "آج روس کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ کسی اور کے پاس نہیں۔ یہی ہماری برتری ہے۔"

 

دریافت کیجیے
شی-ٹرمپ مذاکرات میں 30 بلین ڈالر  کے مال و اسباب پر دوطرفہ کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ
ایران: رُوٹے نے یورپ کے ایران جنگ میں کردار کا اعتراف کیا ہے
یونانی وزیر اعظم میچوتاکیس: "ہم جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتے، ساتھ ساتھ زہنا ہمارا مقدر ہے"
امریکی سیکرٹری خزانہ: ایرانی اقوام متحدہ وفد کیسے اپنے ملک کو لوٹے گا
ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن: وزیر خارجہ عراقچی کی ٹرمپ کے خصوصی نمائندوں ویٹکوف اور کشنر سے ملاقات
ٹرمپ: غزہ کو اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی جائے گی
امریکہ۔ترکیہ ایس-400 تنازع 'حل ہو جائے گا' — امریکی سفیر
ٹرمپ: "میں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں"
ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران یوکرینی اور برطانوی سمیت دیگر رہنماوں سے ملاقات کریں گے
امریکہ عالمی فوجی عدالت پر وسیع پابندیاں لگانے کی تیاری کر رہا ہے — رپورٹ
ٹرمپ نے روس پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے؛ چین اور بھارت کو ممکنہ طور پر 100% ٹیرف کا سامنا
روس نے کیف کو بڑھتی ہوئی ہتھیار کی فراہمی پر برطانوی سفارت کار کو طلب کر لیا
نتن یاہو  نے غزہ میں نسل کشی، ایران، لبنان، شام پر حملوں کو سراہتے ہوئے انتخابی مہم کا آغاز کیا
روس: "خلا میں کی دوڑ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں"
پولینڈ نے یوکرین پر روسی حملوں کی وجہ سے شروع کردہ فضائی آپریشن ختم کر دیا
صدر ٹرمپ؛ وائٹ ہاؤس ملاقات کے دوران شی سے 'تقریباً ہر موضوع' پر بات ہو گی
جنگوں کے عالمی معیشت کو رخ دینے والے دور میں برکس کے رہنما بھارت میں یکجا
مودی کا پوتن کو مشورہ: تنازعات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے
روسی صدر یوکرین اور ایران میں جنگیں جاری ہونے کے ماحول میں برکس سمٹ کے لیے بھارت میں
قالیباف: تہران اقتصادی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں ہے، یہ امریکی حملوں کا "دردناک" جواب دے گا