اسرائیلی اپوزیشن لیڈر ایویگاڈور لیبرمین نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے خلاف غداری کے شبہ میں مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ منگل کے عام انتخابات میں شکست سے بچنے کے لیے اسرائیل کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر 'کان' کی رپورٹ کے مطابق، دائیں بازو کی جماعت 'یسرائیل بیتینو' کے رہنما لیبرمین نے اٹارنی جنرل گالی بہارو میارا کو ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی ہے۔
اپنے خط میں لیبرمین نے کہا کہ نیتن یاہو گزشتہ ایک ماہ سے سیکیورٹی کے اعلیٰ حکام پر ایسے اقدامات کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو ایران کے ساتھ فوجی تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔
لیبرمین نے لکھا کہ "گزشتہ ایک ماہ کے دوران، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سربراہان پر ایسے اقدامات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو ایران کے ساتھ کسی غلط فہمی یا غلط اندازے کا باعث بن سکتے ہیں۔"
انہوں نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ انتخابات میں ہارنے کے خوف سے اسرائیل کو ایک اور جنگ میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "انتخابات کے موقع پر ریاستِ اسرائیل کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش، اور محض انتخابی شکست کے خوف سے آئی ڈی ایف کے سپاہیوں کو قربان کرنے کی آمادگی، ریاست، اس کی سیکیورٹی اور آئی ڈی ایف کے جوانوں کے ساتھ غداری کے زمرے میں آتی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ میں غداری کے شبہ میں نیتن یاہو کے خلاف فوری طور پر مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔"
اسرائیلی اخبار 'معاریو' کے مطابق، اس سے قبل پیر کو لیبرمین نے اسرائیلی ریڈیو اسٹیشن 103FM کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران بھی اسی طرح کے الزامات لگائے تھے۔
لیبرمین نے نیتن یاہو پر انتخابی شکست کے خوف سے فوجیوں کی جانیں قربان کرنے پر آمادگی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ "نیتن یاہو واضح طور پر ریاست کے ساتھ غداری کر رہے ہیں اور وہ ہمیں جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اب تک کی بے مثال کشیدگی کا دعویٰ بھی کیا۔
انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار ایران کے ساتھ تصادم کو ہوا دینے کی نیتن یاہو کی کوششوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ "فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان اس طرح کے کشیدہ تعلقات پہلے کبھی نہیں رہے جیسے آج ہیں۔
لیبرمین نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا فوجی اقدام جو ممکنہ طور پر جنگ یا بڑے پیمانے پر تصادم کا باعث بن سکتا ہو، اسرائیلی قانون کے تحت حکومتی غور و خوض اور منظوری کا تقاضا کرتا ہے۔
انہوں نے نیتن یاہو پر سینٹرل الیکشن کمیٹی اور انتخابی نتائج کے جواز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام بھی لگایا، اور خبردار کیا کہ ایسی کوششیں شدید اندرونی تصادم کو جنم دے سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، "ہم بیک وقت نیتن یاہو کی جانب سے سینٹرل الیکشن کمیٹی اور انتخابی نتائج کو غیر قانونی قرار دینے کی تیز تر کوششیں دیکھ رہے ہیں، چاہے اس کی قیمت شدید اندرونی تصادم، خانہ جنگی اور ریاست کی تباہی کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔"
لیبرمین نے مزید دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو انتخابات ہارنے کے امکان سے واقف ہیں اور اسی لیے وہ ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، "نیتن یاہو بھی جانتے ہیں کہ وہ ہارنے والے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی یہ تمام تر گھبراہٹ اور ہمیں جنگ میں دھکیلنے کی کوشش ہے۔
لیبرمین کے الزامات پر نیتن یاہو کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔















