دنیا
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ: اسرائیلی مداخلت "بحری قزاقی" ہے
ہم، اسرائیل کی اس لاقانونی کارروائی کے خلاف عالمی برادری سے مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہیں: ترکیہ وزارت خارجہ
ترکیہ: اسرائیلی مداخلت "بحری قزاقی" ہے
400 شہریوں پر مشتمل یہ بیڑا غزہ کے لیے سمندری امدادی راہداری کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو 2007 سے اسرائیلی ناکہ بندی میں ہے۔ تصویر: اے ایف پی

ترکیہ نے کہا ہے کہ صمود امدادی فلوٹیلا میں اسرائیلی مداخلت "بحری قزاقی" ہے۔

ترکیہ وزارتِ خارجہ نے، بدھ کی شام اٹلی سے غزہ کی جانب روانہ ہونے والے امدادی بحری بیڑے پر یونان کے ساحل کے قریب اسرائیل کی طرف سے غیر قانونی مداخلت کے بارے میں، بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ "صمود فلوٹیلا کا مقصد عالمی توجہ کو غزہ کے مظلوم لوگوں کو درپیش انسانی المیے کی طرف مبذول کرنا ہے۔ اسرائیلی نے اس  عالمی امدادی بیڑے پر حملہ کرکے انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانون کو نشانہ بنایا ہے۔"

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت بین الاقوامی پانیوں میں سیر و سفر  کی آزادی کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ہم ،اسرائیل کی اس لاقانونی کارروائی کے خلاف عالمی برادری سے مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔"

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "بیڑے میں شامل ترک شہریوں اور دیگر مسافروں کی صورتحال جاننے کے لئے متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔"

حملے کا نشانہ بننے والے بیڑے کی جانب سے جمعرات کی صبح جاری کئے گئے  بیان میں کہا گیا  ہےکہ اسرائیلی بحریہ نے جہازوں کے انجن ناکارہ بنا دیئے اور نیویگیشن سسٹموں کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد سمندر میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

عالمی صمود امدادی بیڑے کے منتظمین نےکہا ہے  کہ یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی جنگی جہازوں نے قافلے کو گھیر لیا اور قافلے کا مواصلاتی  رابطہ منقطع کر کے 11 جہازوں  کا آپس میں تعلق ختم کر دیا۔

400 سے زائد شہریوں پر مشتمل یہ بیڑا غزہ کے لیے ایک انسانی بحری راہداری کھولنے اور محصور علاقے تک امداد پہنچانے کے مقصد سے روانہ ہوا تھا۔

واضح رہے کہ  غزہ 2007 سے اسرائیلی محاصرے میں ہے۔ اس محاصرے   کوتوڑنے اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے قائم کئے گئے عالمی صمود بیڑے کا "2026 بہار مشن" اٹلی کے جزیرے سسلی میں آخری تیاریوں کے بعد 26 اپریل کو بحیرۂ روم کی جانب روانہ ہوا تھا۔

اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی، اسرائیل کی غزہ کے خلاف، نسل کُشی جنگ نے خطے کی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ نسل کُشی میں اسرائیل نے کم از کم 72,600 فلسطینیوں  کو قتل،  172,400 سے زائد کو زخمی اور شہری انفراسٹرکچر کا تقریباً 90 فیصد تباہ کر دیا ہے۔

اکتوبر 2025 سے نافذ جنگ بندی کے باوجود، اسرائیل  غزہ پر حملے جاری اور محصور علاقے میں انسانی امداد کے داخلے کو محدود رکھے ہوئے ہے۔

دریافت کیجیے
روس کے کیف پر میزائل اور ڈراون حملے، امن کی امیدیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں
امریکہ: لبنان۔اسرائیل مذاکرات 'مثبت' رہے ہیں
یامال نے اسپین کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے:سانچیز
یہودی انتہاپسندوں کا مظاہرہ "عربوں کو مار دو" اور "عربوں کے گاوں جلا دو" کے نعرے
باہمی تعاون میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے: شی
ملک دشمن کے شدید حملوں کی زد میں ہے:یوکرین
چینی صدر سے ملاقات میرے لیے اعزاز کی بات ہے:ٹرمپ
آسٹریلیا کا ہرمز مشن کے لیے نگراں طیارے تعینات کرنے کا اعلان
ٹرمپ کا مطالبہ:چین اپنی منڈی امریکی کاروبار کےلیے کھول دے
ٹرمپ نےوینیزویلا کو  امریکہ کی"51 ویں" ریاست قرار دے دیا
جنگ بندی ختم ہوتے ہی روس نے  یوکرین پر ڈرون حملہ کر دیا
قانون سازوں نے اسٹارمر سے استعفی کا مطالبہ کر دیا
ایران جنگ کی لاگت سے امریکی شہریوں کو 37 بلین ڈالر سے زیادہ کی اضافی توانائی کی قیمتوں کا سامنا ہے — رپورٹ
امید ہے ہم کامیاب ہو جائیں گے: کالاس
ایشیاءتوانائی کے بڑے جھٹکوں کے لئے تیار ہو رہا ہے
جب تک جوہری مواد موجود ہے معاملہ ختم نہیں ہو گا: نیتن یاہو
مشرقی کونگو میں دہشتگردانہ حملے،21 افراد ہلاک
روس، سلوواکیہ کو توانائی فراہم کرنے کی 'ہر ممکن' کوشش کرے گا: پوتن
چین: جاپان، انڈو-پیسیفک کو بطور پردہ استعمال کر رہا ہے
پوتن: روسی افواج نیٹو کی طرف سے مسلح اور حمایت کردہ ایک حملہ آور طاقت سے نبرد آزما ہے