برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہیم نے کہا ہے کہ برطانیہ نے حوثیوں کے حملوں کو پسپا کرنے کے لیے سعودی عرب کو محدود فوجی مدد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
برنہیم نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ رائل ایئر فورس نے سعودی طیاروں کے لیے ہوا سے ہوا میں ایندھن فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔منصوبے کے مطابق عارضی معاہدہ چند ہفتوں تک جاری رہے گا تاہم اس کا فعال جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ مشن آنے والے دنوں میں شروع ہو جائے گا اور ایک RAF وائجر ٹینکر کو "دفاعی" آپریشن کرنے والے سعودی جیٹ طیاروں میں ایندھن کی بھرائی کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
اہم حیثیت کی سمندر پار پیٹرول پائپ لائنوں کا حوالہ دیتے ہوئے برنہیم نے کہا ہے کہ "میں برطانیہ اور وسیع تر خطے کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہوں کیونکہ سعودی عرب پر حملے کا اور مزید خلل پڑنے کا خطرہ ہے۔ہمیں ان ٹرانزٹ راستوں کو کھلا رکھنے کی ضرورت ہے۔"
تنازعہ دوبارہ بھڑک اٹھا
یمن میں تنازعات پھر سے بھڑک اٹھے ہیں۔ حوثی باغیوں نے سعودی سرزمین پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ ان حملوں میں ہفتے کے روز ریاض پر حملہ بھی شامل ہے جسے فضائی دفاع نے روک دیا تھا۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے راستے سعودی ٹرانزٹ پر ناکہ بندی کا اعلان کر کے سعودی عرب کے اندر تجارتی بحری جہازوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا کہ اس راستے سے تقریباً 12 فیصد عالمی تجارت گزرتی ہے۔ رواں مہینے کے شروع میں حوثیوں نے ساحل کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے اسٹریٹجک بندرگاہی شہر موہا اور بحیرہ احمر کے اہم جزائر پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس سے تنظیم کی میری ٹائم نیویگیشن سرگرمیوں کی نگرانی میں اضافہ ہوا ہے۔
لندن نے حملوں کی مذمت کی اور "علاقائی استحکام، شہریوں کی حفاظت اور انسانی امداد تک رسائی کی حمایت کے لیے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے" کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ایسے میں کہ جب سابقہ امریکی انتظامیہ نے حوثی اہداف پر براہ راست حملے کیے، واشنگٹن حالیہ جھڑپوں میں فوجی مداخلت پر مائل نہیں ہوا۔
مذکورہ تعیناتی، آنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاض کی طرف سے برطانیہ، فرانس، مصر اور پاکستان سمیت بین الاقوامی شراکت داروں سے فضائی دفاعی مدد کی درخواست کئے جانے کے بعد کی گئی ہے۔


















