دنیا
3 منٹ پڑھنے
برطانیہ، سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرے گا: برنہیم
برطانیہ، حوثیوں کے حملوں کو پسپا کرنے کے لیے سعودی عرب کو محدود فوجی مدد فراہم کرے گا: اینڈی برنہیم
برطانیہ، سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرے گا: برنہیم
مشرق وسطیٰ میں ایک مشن کے دوران برطانوی رائل ایئر فورس کا ٹائفون طیارہ ایک ٹینکر طیارے سے ایندھن بھروا رہا ہے۔ (تصویر: فائل) / Reuters

برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہیم نے کہا ہے کہ برطانیہ نے حوثیوں کے حملوں کو پسپا کرنے کے لیے سعودی عرب کو محدود فوجی مدد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

برنہیم نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں  کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ  رائل ایئر فورس نے سعودی طیاروں کے لیے ہوا سے ہوا میں ایندھن فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔منصوبے کے مطابق  عارضی معاہدہ چند ہفتوں تک جاری رہے گا تاہم  اس کا فعال جائزہ لیا جائے گا۔

 انہوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ مشن آنے والے دنوں میں شروع ہو جائے گا اور ایک RAF وائجر ٹینکر کو "دفاعی" آپریشن کرنے والے سعودی جیٹ طیاروں میں ایندھن  کی بھرائی کے لیے تعینات کیا جائے گا۔

اہم حیثیت کی سمندر پار پیٹرول پائپ لائنوں  کا حوالہ دیتے ہوئے برنہیم نے کہا ہے کہ "میں برطانیہ اور وسیع تر خطے کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہوں کیونکہ سعودی عرب پر حملے کا اور  مزید خلل پڑنے کا خطرہ ہے۔ہمیں ان ٹرانزٹ راستوں کو کھلا رکھنے کی ضرورت ہے۔"

تنازعہ دوبارہ بھڑک اٹھا

یمن میں تنازعات پھر سے بھڑک اٹھے ہیں۔ حوثی باغیوں نے سعودی سرزمین پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ ان حملوں میں ہفتے کے روز ریاض پر حملہ بھی شامل ہے جسے فضائی دفاع نے روک دیا تھا۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے راستے سعودی ٹرانزٹ پر ناکہ بندی کا اعلان کر کے سعودی عرب کے اندر تجارتی بحری جہازوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا کہ اس راستے  سے تقریباً 12 فیصد عالمی تجارت گزرتی ہے۔ رواں مہینے  کے شروع میں حوثیوں نے ساحل کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے اسٹریٹجک بندرگاہی شہر موہا اور بحیرہ احمر کے اہم جزائر پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس سے تنظیم کی میری ٹائم نیویگیشن سرگرمیوں کی نگرانی میں اضافہ ہوا ہے۔

لندن نے حملوں کی مذمت کی اور "علاقائی استحکام، شہریوں کی حفاظت اور انسانی امداد تک رسائی کی حمایت کے لیے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے" کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ایسے میں کہ جب سابقہ ​​امریکی انتظامیہ نے حوثی اہداف پر براہ راست حملے کیے، واشنگٹن حالیہ جھڑپوں  میں فوجی مداخلت پر مائل نہیں ہوا۔

مذکورہ تعیناتی، آنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاض کی طرف سے برطانیہ، فرانس، مصر اور پاکستان سمیت بین الاقوامی شراکت داروں سے فضائی دفاعی مدد کی درخواست کئے جانے کے بعد کی گئی ہے۔

دریافت کیجیے
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی
جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار کردیا؛ جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع