مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل اور لبنان آئندہ ہفتے روم میں ملیں گے
امریکہ کی قیادت میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا اگلا دور اگلے ہفتے روم میں منعقد ہوگا اور مذاکرات کاروں کا مقصد سیکیورٹی فریم ورک معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے حالیہ دور میں ہونے والی پیش رفت کو مزید آگے بڑھانا ہے
اسرائیل اور لبنان آئندہ ہفتے روم میں ملیں گے
اسرائیل-لبنان

امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق، امریکہ کی قیادت میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا اگلا دور اگلے ہفتے روم میں منعقد ہوگا اور مذاکرات کاروں کا مقصد سیکیورٹی فریم ورک معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے حالیہ دور میں ہونے والی پیش رفت کو مزید آگے بڑھانا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ،گزشتہ روز امریکی  امور خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جنوبی لبنان میں پہلے پائلٹ زون کے کامیاب نفاذ اور گزشتہ ہفتے صدر جوزف عون کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی نتیجہ خیز ملاقات کے بعد، ہم ان مذاکرات کا آغاز ایک اہم رفتار کے ساتھ کر رہے ہیں۔

اہلکار کے مطابق، 4 سے 6 اگست تک روم میں جمع ہونے والے تکنیکی ورکنگ گروپس گزشتہ ماہ طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے مکمل نفاذ کے عمل کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔

ایجنڈے میں پائلٹ زون کے اقدام کو وسعت دینا، غیر حل شدہ سرحدی تنازعات کو ختم کرنا اور اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک جامع امن و سیکیورٹی معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے کام کرنا شامل ہوگا۔

اہلکار نے کہا کہ پہلا پائلٹ زون؛ دہشت گرد تنظیموں کو تصدیق شدہ طریقے سے غیر مسلح کر کے لبنانی ریاستی انتظامیہ کی بحالی اور اگلے اقدامات کے لیے ضروری اعتماد سازی کے ذریعے زمین پر ٹھوس پیش رفت حاصل کرنے کا ایک حقیقی موقع ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پہلے پائلٹ زون سے حاصل ہونے والے اسباق، نفاذ کے عمل کو مرحلہ وار وسیع کرنے سے پہلے اس کا جائزہ لینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

اہلکار نے کہا کہ سہ فریقی فریم ورک، مستقل امن کا واحد راستہ ہے۔ اس فریم ورک کا مکمل نفاذ دونوں ممالک کے واضح مفاد میں ہے اور ٹرمپ انتظامیہ اس کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔"

لبنان اور اسرائیل نے 26 جون کو ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت اسرائیل تمام مقبوضہ لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار نکل جائے گا؛ تاہم اس معاہدے میں انخلا کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم شامل نہیں ہے۔ اس کے بجائے، یہ معاہدہ اس عمل کی تکمیل کو اس بات سے مشروط کرتا ہے کہ اسرائیلی افواج کے خالی کردہ علاقوں میں لبنانی فوج سیکیورٹی کی پوری ذمہ داری سنبھالے گی اور حزب اللہ سمیت تمام مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا۔

لبنانی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2 مارچ سے اب تک لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 4,328 افراد جاں بحق اور 12,232 زخمی ہو چکے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
امریکہ نے محمود عباس کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع
ایران: ہم نے جزیرہ قشم  کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرا دیا ہے
حماس کی رفح بریگیڈ کا کمانڈر مارا گیا ہے:اسرائیل
مکہ پر حملے کی کوشش،او آئی سی کی مذمت
ایرانی مسلح افواج کا جنگ، فائر بندی اور جنگ کے بعد کے سناریوز کے لیے قومی دفاعی تیاریوں کا حکم
سعودی عرب: ہم حوثی حملوں کا 'سخت' جواب دیں گے
اسرائیلی وزیر دفاع کی جنوبی لبنان کے پہاڑوں کی طرف رخ کرنے والوں کو 'ختم کرنے' کی دھمکی
ایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
لبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
سعودی عرب: عراق سے تیل پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بغداد اس واقع کی تحقیقات کر رہا ہے
یمنی فوج نے مغربی ساحل پر حوثی محاذوں پر فضائی حملے کیے
ایران پر امریکی دباؤ 'خطرناک' مرحلے پر آن پہنچا ہے، پزشکیان
آبنائے ہرمز کا نام آبنائے ٹرمپ ہونا چاہیئے:ٹرمپ
اردن کے امریکی اڈے پر ایران کا حملہ،تفصیلات سامنے آ گئیں
امریکہ کے ایرانی ٹینکروں پر حملے، مشرق وسطی میں تناؤ بڑھ گیا
نیتین یاہو نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے:نفتالی بینیٹ
حماس کا اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے شواہد چھپانے کا الزام
حوثیوں کے  حملے، سعودی عرب کی مذمت
اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل