امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ”بہت جلد“ ختم ہو جائے گی، اور انہوں نے پیش گوئی کی ہے کہ تنازع ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئے گی۔
ٹرمپ نے بدھ کو مونٹانا میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ایران جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ خود اس کا خاتمہ چاہتے ہیں ،ان کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، اور تیل کی قیمتیں چٹان کی طرح نیچے گر جائیں گی۔“
اس سے قبل، مونٹانا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے اس بات پر غیر یقینی کا اظہار کیا کہ واشنگٹن تنازع کو ختم کرنے کی کوششوں کے دوران کن ایرانی حکام سے مذاکرات کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی بحریہ نہیں ہے، ان کے پاس کوئی فضائیہ نہیں ہے۔ان کی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ان کے رہنما جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے شاید ان کے رہنماؤں کو چھوڑ دینا چاہیے تھا کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ ہم آخر کس سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
صدر نے ایران کو ماضی میں مشرقِ وسطیٰ کی ایک غالب فوجی قوت کے طور پر بھی بیان کیا اور دلیل دی کہ امریکی فوجی کارروائیوں نے اس کی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران مشرقِ وسطیٰ کا بدمعاش تھا، یہ ملک اب اتنا طاقتور نہیں رہا جتنا پہلے ہوا کرتا تھا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں نے ایران کے بحری بیڑے کو تباہ کر دیا ہے اور اس کے فوجی طیاروں کو ناقابلِ استعمال بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس 159 جہاز تھے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب ایک بھی فعال نہیں ہے، جبکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کے لڑاکا طیارے ملک کے رن ویز پر ہی تباہ کر دیے گئے تھے۔


















