غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
فلسطینی اور ایک مصری کمیٹی یارموک محلے میں اسرائیلی بمباری کے شکار افراد کی تلاش کا کام 12 دنوں سے جاری ہے۔
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی نسل کشی کے آغاز سے اب تک تقریباً 9,500 فلسطینی لاپتہ ہیں۔ / AFP Archive

محاصرے میں بند غزہ کے حکام نے غزہ شہر کے ال تاج اسکوائر میں اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے گھروں کے ملبے تلے سے مزید 12 فلسطینیوں کی لاشیں اور باقیات نکال لی ہیں، جس سے اس علاقے کے متاثرین کی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے۔

جمعرات کو جاری ایک مختصر بیان میں سول ڈیفنس نے کہا کہ اس کے غزہ   میں موجود ٹیمیں ایک مصری کمیٹی کے تعاون سے یرموک محلے میں تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے تلاش اور بازیابی کے کام بارہویں مسلسل دن بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ تلاش اور بازیابی کے آپریشن سول ڈیفنس کی طرف سے 19 جولائی کو شروع کیے گئے 'شہداء کی لاشوں کی بازیابی' منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے تباہ کی گئی عمارتوں سے لاپتہ افراد کی باقیات نکالنا ہے۔

دوسرے مرحلے میں غزہ، شمالی غزہ اور وسطی غزہ میں مکانات  کے ملبے تلے تلاش شامل ہیں اور یہ کام 800 ورکنگ گھنٹوں  سےجاری ہے۔

سول ڈیفنس کے سابقہ ڈیٹا کے مطابق، تلاش  آپریشن 147 تباہ شدہ مکانات کا احاطہ کرتا ہے،  اور خیال پایا جاتا ہے کہ 1,072 افراد کی لاشیں  تا حال ملبے تلے ہیں۔

بازیابی کے کام ضروری سازوسامان اور مشینری کی کمی کی وجہ سے آہستگی سے چل رہے ہیں، حالانکہ 10 اکتوبر 2025 سے غزہ میں ایک جنگ بندی معاہدہ نافذ ہے، جس میں فلسطینی حکام کے بقول بھاری آلات اور مشینری کے داخلے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ ملبہ ہٹانے اور متاثرین نکالنے میں مدد مل سکے۔

اکتوبر 2025 میں غزہ کے گورنمنٹ میڈیا آفس نے کہا تھا کہ محاصرے والے خطے پر اسرائیلی نسل کشی کے آغاز سے تقریباً 9,500 فلسطینی لاپتہ ہیں، جن میں وہ افراد شامل ہیں جن کی لاشیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے ہیں اور دیگر جن کی صورت حال نامعلوم ہے۔

'شہداء کی لاشوں کی بازیابی' منصوبے کا پہلا مرحلہ نومبر 2025 کے آخر میں شروع ہوا اور اس میں تقریباً 333 لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ 54 گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے 559 افراد لاپتہ بتائے گئے۔

غزہ میں نسل کشی

اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے غزہ میں اپنی نسل کشی میں 73,000 سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، اور 174,000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد غزہ حکام  کی طرف سے  رپورٹ کردہ تعداد  سے کہیں زیادہ ہے ، اور اس کا اندازہ تقریباً 200,000 لگایا   جا رہا ہے۔

اسرائیل نے  محاصرہ  شدہ علاقے کا بیشتر حصہ تباہ کر دیا ہے اور پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔ یہ اب بھی غزہ کے 60 فیصد حصے پر قابض ہے۔

اکتوبر 2025 میں ایک جنگ بندی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود اسرائیل نے روزانہ کی  بنیادوں پر ااس کی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں ، اس  نے  کم از کم 1,375 فلسطینیوں کو ہلاک اور 4,686 دیگر کو زخمی کیا، جس سے یہ ایک یک طرفہ سمجھوتہ بن گیا۔

 

دریافت کیجیے
غزہ میں قاتل اسرائیل کے حملوں میں مزید 5 فلسطینی شہید
ترکیہ اور 7 دیگر ممالک کی طرف سے اسرائیل کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی منصوبوں کی مذمت
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی
حماس: اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے
اسرائیلی ربی کا مطالبہ: فلسطینی مغربی کنارے سے نکل جائیں
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
اسرائیل کے غزہ پر حملوں میں تباہ شدہ مکانات کے ملبے تلے سے 233 فلسطینی شہریوں کی لاشیں بازیاب
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں 63 فیصد اضافہ
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
فلسطین: عالمی کمپنیاں اسرائیل کے 'ای 1' منصوبے میں شرکت سے گریز کریں
اسرائیل نے تقریباً 650 مکانات پر مشتمل ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع دیا
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
اسرائیل نے غزہ بھر میں 2 بچوں سمیت کم از کم آٹھ فلسطینی قتل کر دیئے
مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد اور الحاق  کی'صورتحال' بتدریج ابتر ہو رہی ہے، اقوام متحدہ
غزہ میں ایک مسجد کو نشانہ بنا کر شہید کرنے کا اسرائیل کا اعتراف
یورپی یونین کا نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی وارنٹ کے نفاذ کا مطالبہ
اسرائیلی تازہ حملوں میں غزہ میں مزید تین فلسطینی شہید