ترکیہ نے کراچی میں پاکستان رینجرز کے اہلکاروں کو نشانہ بنا کر کئے گئے اور تین سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور چار کے زخمی ہونے کا سبب بننے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذّمت کی ہے ۔
اسلام آباد میں ترک سفارت خانے نے منگل کے روز جاری کردہ بیان میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
ترکیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ 27 جون کو دہشت گردوں نے کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع پاکستان سندھ رینجرز کی سکیورٹی تنصیب پر ایک مربوط حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی مرکزی دروازے سے ٹکرا کر دھماکہ کیا اور بعد میں آتشیں اسلحے اور دستی بموں کے ذریعے حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی۔
رینجرز اہلکاروں نے اسپیشل سکیورٹی یونٹ (SSU) اور کاؤنٹر ٹیررازم فورس (CTF) کی مدد سے فوری کارروائی کی۔ پاکستان فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، تین حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا اور کم از کم ایک مشتبہ شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک علیحدگی پسند گروہ جماعت الاحرار (JuA) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
پاکستان حالیہ برسوں میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے اور اس نے ہمسایہ ملک افغانستان کو دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنےکا موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ تاہم کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
پاکستان نے رواں ماہ کے آغاز میں ہونے والے حملے سمیت گزشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان میں متعدد فضائی حملے بھی کیے ہیں۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد، اکتوبر میں کشیدگی میں اضافے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔











