ترکیہ کی قومیہ خفیہ سروس نے اپنی کارروائیوں کے نتیجے میں دو مختلف غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام کرنے والے جاسوسی نیٹ ورک میں شامل 9 افراد کی بالترتیب شناخت کی۔
قومی خفیہ سروس نے انقرہ کے جمہوری اٹارنی جنرل اور انقرہ TEM ڈائریکٹوریٹ کی "خصوصی ٹیموں" کے ساتھ مشترکہ تفتیش کے تحت چار صوبوں میں ایک ہی وقت میں آپریشن کیا، جس میں نیٹ ورک کے سرغنہ B.E. سمیت 7 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ معلوم ہوا کہ نیٹ ورک کے دو افراد دیگر جرائم کی بنا پر پہلے ہی قید میں ہیں۔ جاسوسی کے الزام میں عدالتی کارروائی کے لیےگرفتار کردہ 7 افراد کو تفتیشی حراست میں رکھا گیا ہے۔
اسٹریٹجک آپریشن
B.E.اور اس کے نیٹ ورک میں شامل افراد ترکیہ میں سول سوسائٹی تنظیموں، ایسوسی ایشنز، نسلی گروہوں اور سرکاری اہلکاروں کے بارے میں حساس معلومات اکٹھی کر کے انہیں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کو منتقل کر رہے تھے۔
نیٹ ورک میں شامل افراد کی مشتبہ سرگرمیوں نے MİT کی توجہ حاصل کی۔ ایک وسیع المعلوماتی آپریشن شروع کیا گیا۔ B.E. اور تنظیم کے دیگر ارکان کی سرگرمیوں کا نگرانی، سائبر مانیٹرنگ اور تکنیکی سماعت کے ذریعے منظم انداز میں جائزہ لیا گیا۔
وقت کے ساتھ، نیٹ ورک کے غیر ملکی سروسز کے ساتھ قائم رابطے کی لائنیں، رپورٹنگ کے طریقے، ادائیگی کے میکانزم اور کام کے احکامات مکمل طور پر ریکارڈ کر لیے گئے۔
B.E.اور اس کے زیرِ انتظام نیٹ ورک نے طویل عرصے تک یہ غلط فہمی رکھی کہ ان کی سرگرمیاں پوشیدہ اور قابو میں ہیں، اور اسی بھرم میں جاسوسی کی کارروائیاں جاری رکھیں۔
MİTکی طویل اطلاعاتی کوششوں کے نتیجے میں، ترکیہ کے خلاف جاسوسی سرگرمیاں چلانے والے نیٹ ورک کے مرکز میں موجود B.E. سمیت پورا تنظیمی ڈھانچہ بے نقاب ہو گیا۔
MİT کی بڑی کامیابی
اس آپریشن سے نہ صرف نیٹ ورک کے ارکان کی شناخت سامنے آئی بلکہ غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے ترکیہ میں قائم نیٹ ورک کا ڈھانچہ، رابطے کے پروٹوکول اور حکمتِ عملی کے اہداف بھی سامنے آئے۔ ترک قومی خفیہ سروس نے آپریشن کے دوران حاصل کردہ معلومات کے ذریعے قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنایا اور غیر ملکی سروسز کے طریقۂ کار کا تفصیلی تجزیہ بھی کیا۔

















