سیاست
3 منٹ پڑھنے
امریکہ: سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو چھانٹیوں کا اختیار دے دیا
امریکہ سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وفاقی ملازمین کی تعداد میں بڑے پیمانے پر چھانٹی کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے
امریکہ: سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو چھانٹیوں کا اختیار دے دیا
FILE PHOTO: A general view of the U.S. Supreme Court building in Washington, U.S / Reuters
9 جولائی 2025

امریکہ سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو، وفاقی ملازمین کی تعداد میں بڑے پیمانے پر چھانٹی کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس عدالتی  فیصلے کے ساتھ اہم سرکاری اداروں کے ہزاروں ملازمین کو برطرف کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ سُپریم کورٹ کا  منگل کے روز سنایا گیا یہ فیصلہ  ،صدر ٹرمپ کے ماہِ فروری میں  جاری کردہ اور وفاقی بیوروکریسی  کی تشکیلِ نو کے دائرہ کار میں وزارتی عملے میں کمی  کے لئے تیاری کے مطالبے پر مبنی،  ایک ایگزیکٹو آرڈر سے منسلک  ہے۔

جن وزارتوں میں چھانٹیوں کا امکان ہے ان میں وزارتِ زراعت، وزارتِ خارجہ، وزارتِ خزانہ، وزارتِ صحت  اوروزارت برائے امورِ  ریٹائر عسکری عملہ سمیت متعدد وزارتیں  شامل ہیں۔

عدالت کے، اسباب کی توضیح  کے بغیر  اور غیر دستخط شدہ ،حکم میں کہا  گیا ہےکہ ایگزیکٹو آرڈر صدر کے قانونی اختیارات کے دائرے میں آتا ہے اوراس موضوع پر  ٹرمپ انتظامیہ کا  مؤقف "غالباً کامیاب رہے گا"۔

اس  فیصلے نے ہائی کورٹ کے  فیصلے کو کالعدم کر دیا ہے کہ جس نے  مذکورہ منصوبے کو عارضی طور پر  روکنے کا حکم سُنایا تھا۔یہ  پیش رفت، اپنے انتظامی اختیارات کو وسیع کرنے کی کوششوں میں، ٹرمپ کی ایک اور کامیابی کے حیثیت سے ریکارڈ کا حصّہ بن گئی ہے۔سپریم عدالت  حال ہی میں ان کی، مہاجرت، فوجی قوانین، اور وفاقی اختیارات سے متعلقہ متنازعہ پالیسیوں کی بھی حمایت کر چُکی ہے۔

منگل کے فیصلے نے امریکی ڈسٹرکٹ جج سوسن الیسٹن کے مئی کے حکم کو کالعدم کر دیا ہے  جنہوں نے کہا تھا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر بڑے پیمانے پر برطرفیاں نہیں کی جا سکتیں۔

الیسٹن نے جاری کردہ فیصلے کی توضیح میں لکھا تھا کہ "جیسا کہ تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ صدر، وفاقی محکموں میں وسیع پیمانے کا ردوبدل صرف  کانگریس کی اجازت کی صورت میں ہی کر سکتا ہے"۔

اگرچہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ٹرمپ کو اپنے منصوبے جاری رکھنے کی اجازت دی ہے لیکن ججوں نے سرکاری ملازمتوں سے برطرفی  کی تجاویز کی قانونی حیثیت پر کوئی رائے نہیں دی۔

وزارتوں کو اب بھی مزدور یونینوں، وفاقی تحفظات، اور قانونی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

'حتمی کامیابی'

وائٹ ہاؤس نے اس فیصلے کو صدر اور ان کی انتظامیہ کے لیے ایک "حتمی کامیابی" قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ  پوری وفاقی حکومت میں "موثر کارکردگی" کی یقین دہانی کی خاطر ٹرمپ کے اختیار  کی توثیق کرتا ہے۔

وفاقی ملازمین کی یونینوں اور مقدمہ دائر کرنے والے وکالت گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ برطرفیاں عوامی خدمات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

انہوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ "یہ فیصلہ ان خدمات کو سنگین خطرے میں ڈال رہا ہے جن پر امریکی عوام انحصار کرتے ہیں۔"

واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جنوری میں ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے تقریباً 2,60,000 سرکاری ملازمین مستعفی  ہوچکے ، ریٹائر ہو چکے ہیں یا برطرف کیے جا چکے ہیں۔ وزارتی محکموں میں یہ مہم، محکمہ حکومتی کارکردگی کے حالیہ سربراہ، ایلون مسک کی قیادت میں چلائی گئی ہے ۔

مسک کے احکامات سے، امریکہ بین الاقوامی ترقی  ایجنسی 'یو ایس اے آئی ڈی' اور صارف مالیاتی تحفظ بیورو میں،بڑے پیمانے پر چھانٹیاں کی جا چکی ہیں اور اس  دوران وفاقی آئی ٹی نظام اور آپریشنوں کا کنٹرول سیاسی تقرریوں کے ذریعے بھرتی کی گئی  ٹیموں نے سنبھال لیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی نے ایجنسیوں کے اندر افراتفری پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں سوشل سیکیورٹی درخواستوں، سابقہ  فوجیوں کےمفادات، اور شعبہ ریگولیٹری نگرانی میں کام جمع ہو رہا ہے  اور اداروں میں افراتفری مچ رہی  ہے۔

دریافت کیجیے
ترکیہ: اردوعان۔ماکرون ملاقات
پاکستان میں 21 گھنٹے کے طویل امریکہ۔ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع
ایران جنگ می امریکی طیارہ نما ڈراون طیاروں کو وسیع پیمانے کا نقصان
اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید
امریکی خفیہ رپورٹ کے مطابق چین ایران کو دفاعی فضائی نظام فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے
امریکی نائب صدر جے ونس امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے
اسرائیل کا دعویٰ: ہم  نے ایران جنگ کے دوران 10,800 ہوائی حملے کیے ہیں
میلانیا ٹرمپ: میرے  جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے کبھی کوئی تعلقات نہیں رہے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے
ٹرمپ: امریکی فوجیں علاقے میں موجود رہیں گی