ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
خطے کو جنگ میں جھونکنے کا سبب اسرائیل ہے:فیدان
ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان  نےخطے کو بے مثال بحران میں دھکیلنے کا ذمہ دار  اسرائیل  کو  قرار دیا  اور خبردار کیا کہ اسرائیل کو اس تنازعے کو اپنے جرائم اور قبضے کی پالیسیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے
خطے کو جنگ میں جھونکنے کا سبب اسرائیل ہے:فیدان
خاقان فدان / AA

 ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان  نےخطے کو بے مثال بحران میں دھکیلنے کا ذمہ دار  اسرائیل  کو  قرار دیا  اور خبردار کیا کہ اسرائیل کو اس تنازعے کو اپنے جرائم اور قبضے کی پالیسیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

فدان نے یہ بات جمعرات کو دوحہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی، جہاں وہ تناؤ کم کرنے کے لیے ایک  سفارتی دورے کے سلسلے میں قطر کے وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ملاقات کرنے آئے تھے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جاری سفارتی مذاکرات کے دوران شروع کیے گئے امریکی-اسرائیلی حملوں کی وسعت بڑھ گئی ہے، جس نے خطے کو ایک وسیع تنازعہ کے علاقے میں تبدیل کر دیا ہے اور عالمی استحکام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

‘‘ہم شہری انفراسٹرکچر اور عوام کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت اور انہیں مسترد کرتے ہیں۔ ترکیہ قطر کے ساتھ کھڑا ہے اور ایسا کرتا رہے گا۔’’

ساتھ ہی انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ خطّی ممالک پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔

‘‘خواہ کوئی بھی جواز ہو، ایران کے علاقائی ممالک پر حملے علاقائی استحکام کی بنیادوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ ناقابلِ قبول ہیں اور نہ تو ایران کے مفاد میں ہیں نہ خطے کے۔’’

‘‘جس طرح ایران پر حملے غلط ہیں، اسی طرح ایران کے بلاجواز حملے بھی غلط ہیں۔’’

فدان نے تہران پر تاریخی ذمہ داری کا احساس رکھنے پر زور دیا اور فوری طور پر ایسی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا جو خطّی ریاستوں کے درمیان ناقابلِ تلافی اور پائیدار دراڑیں پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے سمندری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیوں کے خلاف بھی خبردار کیا اور عالمی تجارت اور توانائی کے راستوں کو لاحق خطرات کو اجاگر کیا۔

قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے بھی ضبطِ نفس کی اپیل دہرائی اور جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

‘‘جنگ کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ یہ سب کے لیے واضح ہے کہ اس جنگ سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے اور کس نے خطے کو تنازعے کی طرف گھسیٹا ہے۔’’

انہوں نے خبردار کیا کہ تنازعے کے دائرے کو بڑھانا علاقائی سیکورٹی اور استحکام کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا اور زور دیا کہ سفارتکاری کو 'اولین اور آخری' حل رہنا چاہیے۔

الثانی نے ایران کے دعووں کو کہ وہ امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے 'ناقابلِ قبول اور بغیر جواز' قرار دیا اور خبردار کیا کہ راس لفان پر حملہ عالمی توانائی کی فراہمی پر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

انہوں نے دوحہ کے ساتھ انقرہ کی مسلسل حمایت پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انقرہ کی حمایت ہمیشہ جاری رہی ہے۔

فدان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ پر بات چیت کے لیے خطّی ممالک کے دورے پر ہیں۔

یہ دورہ اُن حالات میں ہوا جب 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ امریکی-اسرائیلی آپریشن کے آغاز اور اس کے بعد تہران کی متعدد خطّی ممالک میں کی گئی ضربوں کے بعد خطّی عدم استحکام تیزی سے شدت اختیار کر گیا ہے۔

 

دریافت کیجیے
اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں  ایک نئی فوجی کارروائی
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے قصرہ میں تین فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے لیا
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت
ایرانی فوج دفاعی نظریے سے حملہ آور نظریے کی طرف مڑ رہی ہے: فوجی ترجمان
امریکہ: چارٹر طیارے کے حادثے میں تمام 8 افراد ہلاک