مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل نے امریکہ۔ایران معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے عراقچی اور قالیباف کو ہدف بنانا چاہا تھا
امریکی عہدیداروں کے بقول، اپریل میں مذاکرات کے سنجیدگی سے شروع ہونے کے بعد کوئی بھی اقدامِ قتل مذاکرات کو ختم کر دیتا اور امریکہ-اسرائیل بمقابلہ ایران جنگ کو دوبارہ بھڑکا دیتا۔
اسرائیل نے امریکہ۔ایران معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے عراقچی اور قالیباف کو ہدف بنانا چاہا تھا
سید عباس عراقچی (درمیان) اور محمد باقر قالیباف (بائیں) سوئٹزرلینڈ کے بیورگن اسٹاک ریزورٹ میں نظر آ رہے ہیں۔ [فائل] / Reuters

امریکی روزنامہ نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں کا ماننا تھا کہ حساس جنگ بندی مذاکرات کے دوران اسرائیل ایران کے اعلیٰ مذاکرات کاروں کو قتل کرنے کی سازش  میں ملوث ہو گا۔

اخبار نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن اس بات پر فکرمند تھا کہ جب اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات میں تیزی آئی تھی تو  ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ممکنہ طور پر ہدف بن سکتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قدر پریشان تھی کہ اس نے علاقے کے دوسرے ممالک سے کہا کہ وہ تہران کو خبردار کریں کہ اسرائیل ان دو عہدیداروں پر حملہ کر سکتا ہے۔

امریکی عہدیداروں کے بقول، اپریل میں مذاکرات کے سنجیدگی سے شروع ہونے کے بعد کوئی بھی اقدامِ قتل مذاکرات کو ختم کر دیتا اور امریکہ-اسرائیل بمقابلہ ایران جنگ کو دوبارہ بھڑکا دیتا۔

رپورٹ میں کہا گیا  ہے کہ واشنگٹن کو معلوم ہوا تھا  کہ کم از کم قالیباف کو اسرائیلی ہدف فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا اور واشنگٹن نے اسرائیل سے کہا کہ وہ آگے نہ بڑھے۔

اس میں ایرانی عہدیداروں کا حوالہ بھی دیا گیا کہ تہران نے پاکستانی اور قطری ثالثوں کے ذریعے امریکہ سے یہ ضمانتیں طلب کیں کہ سفارتی ملاقاتوں کے دوران اسرائیل اس کی مذاکراتی ٹیم پر حملہ نہیں کرے گا۔

رپورٹ میں اپریل کے ایک واقعے کی تفصیل بھی دی گئی جس میں قالیباف کی اسلام آباد سے واپسی پرواز ،ایرانی سکیورٹی فورسز کے دو اسرائیلی طیاروں کو ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہوئے  دیکھنے کے  بعد مشہد کی طرف موڑ دی گئی تھی۔

علی خامنہ ای کا جنازہ

ایک امریکی عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان بات چیت جاری ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امن عمل "اپنی رفتار سے آگے بڑھے۔"

ٹرمپ نے دہرایا کہ امریکہ ایران میں حکومت تبدیل کرنے کی خواہش نہیں رکھتا، اور کہا کہ واشنگٹن کا مقصد تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

انہوں نے CNBC کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ "ہم حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے۔ میں کچھ بہت سادہ چاہتا ہوں: وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے،"

ٹرمپ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی فوجی کارروائی کا دفاع  کرتے ہوئے کہا کہ  ملک 'مکمل طور پر فوجی طور پر شکست خوردہ' ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میں نے انہیں فوجی طور پر شکست دی ہے۔  ان کے پاس کچھ میزائل بچے ہیں، ہم انہیں بھی ختم کر سکتے ہیں، اور گزشتہ  ہفتے تین بار ان پر حملہ کیا، کیونکہ انہوں نے ایک ڈرون کو ایک جہاز کی طرف بھیجا تھا۔

ادھر، قطری اور پاکستانی ثالثوں نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اگلا دور 'جیسے ہی ممکن ہو' منعقد کیا جائے گا، ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے کی رسومات کے بعد، جنہیں 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی حملوں میں قتل کیا گیا تھا، اور جنازہ کی تقریبات 4 جولائی سے 9 جولائی تک شیڈول ہیں۔

 

دریافت کیجیے
آئی آر جی سی: ہم نے اردن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا ہے
ہم، ایران۔امریکہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے خواہش مند ہیں: فیدان
بحیرۂ کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کے ٹرمینل پر دو آئل ٹینکروں پر حملے
جاپان: اب ہم ایٹمی موضوع پر "بات کرنے سے گریز نہیں کر سکتے"
اقوام متحدہ: غزہ کے بچوں میں تیزی سے خسرہ پھیل رہا ہے
یوکرین: روسی حملوں میں ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی
امریکہ نے جزیرہ قشم کو بھی نشانہ بنایا
انگلینڈ نے فیفا ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن اپنے نام کر لی
آبنائے ہرمز پر کسی بھی ریاست کا دعوی خودمختاری "بین الاقوامی قانون کے خلاف" ہے
بھارت کا نجی خلائی دور وکرم-1 کے آغاز کے ساتھ شروع
ایران نے کویت کے بجلی اور پانی کی پلانٹس پر حملے کیے جبکہ بحرین نے ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا
عراقی وزیر اعظم نے دورہ امریکہ کے دوران 48 تجارتی معاہدے کر لیے
مشرقی ترکیہ میں ریکڑ اسکیل پر 5 کی شدت کا زلزلہ
یوکرین کے ڈراون حملے میں سات افراد ہلاک، 24 زخمی
ایران نے 7 راتوں سے جاری حملوں کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے