پاکستان
2 منٹ پڑھنے
پاکستان مسلح افواج نے ملٹری کالج حملے میں ملّوث پانچوں دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے ہیں
دہشت گرد از سرِ نو 2014 کے پشاور اسکول حملے کا منظر نامہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن سکیورٹی فورسز نے اس ممکنہ المیے کو ناکام بنا دیا ہے
پاکستان مسلح افواج  نے ملٹری کالج حملے میں ملّوث پانچوں دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے ہیں
سیکیورٹی فورسز پشاور کے جنوب مغرب میں واقع باڑہ کے فورٹ سلوپ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مختلف اقسام کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی نمائش کر رہے ہیں۔ / Reuters

پاکستان مسلح  افواج نے ملک کے شمال مغرب میں جنوبی وزیرستان کے علاقے میں ایک ملٹری کالج پر حملے کے بعد آپریشن کر کے حملے میں شامل 5 ٹی ٹی پی دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ حملہ آوروں میں ایک خودکش حملہ آور بھی شامل تھا۔

نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ایک سکیورٹی اہلکار نے کہا ہے کہ سکیورٹی آپریشن ختم ہو چکا ہے اور حکام ،کسی نصب شدہ دھماکہ خیز آلےکا احتمال ختم کرنے کے لئے، کالج کی عمارت  کی تلاشی لے رہے ہیں ۔

پیر کو جنوبی وزیرستان کے افغانستان کی سرحد سے قریبی علاقے  وانا میں واقع کیڈٹ کالج پر  حملے میں دہشت گردوں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو کالج کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دیا تھا۔

خود کش حملہ آور سمیت 2دہشت گردکالج کے مرکزی دروازے پر ہلاک ہو گئے اور دیگر  تین کالج کے اندر داخل ہو گئے تھے۔

سکیورٹی اہلکار کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کالج کے اندر موجود اور طلبہ، اساتذہ اور سول عملے پر مشتمل  600 سے زائد افراد کو محفوظ طریقے سے نکالا اور بعد ازاں کالج کے انتظامی بلاک میں محصور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا ۔

پاک فوج نے کہا ہے کہ حملہ، 'فتنہ الخوارج' کے  دہشت گردوں نے کیا ہے اورانہیں افغانستان میں اپنے 'آقاوں' کی حمایت حاصل تھی۔فتنہ الخوارج وہ اصطلاح ہے جو اسلام آباد تحریکِ طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کرتا ہے ۔

سکیورٹی اہلکار نے کہا  ہےکہ دہشت گرد از سرِ نو 2014 کے پشاور اسکول حملے کا منظر نامہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن سکیورٹی فورسز نے اس ممکنہ المیے کو ناکام بنا دیا ہے۔

یاد رہے کہ16 دسمبر 2014 کو تحریکِ طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 6 دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور میں داخل ہو کر تقریباً 150 افراد کو ہلاک کر دیا تھا جن میں 130 سے زائد اسکول کے بچے  تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی کے خلیفہ منصور گروپ نے قبول کی تھی۔ منصور، اکتوبر 2017 میں افغانستان کے مشرقی علاقے میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے اندر مہلک سرحد پار حملے تیز کر دیے ہیں اور افغانستان اسے پناہ دے رہا ہے۔

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"