دنیا
3 منٹ پڑھنے
ڈنمارک: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہمارے بچوں کا بچپن چُرا رہے ہیں
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہمارے بچوں کا بچپن چُرا رہے ہیں۔ ہم  بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگائیں گے: وزیر اعظم فریڈریکسن
ڈنمارک: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہمارے بچوں کا بچپن چُرا رہے ہیں
The government says digital platforms are harming children’s focus and wellbeing. [File Photo] / Reuters
8 اکتوبر 2025

ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا ہے کہ "سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہمارے بچوں کا بچپن چُرا رہے ہیں۔ ہم  بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگائیں گے"۔

منگل کے روز پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس  سےخطاب میں فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ معاشرہ "ایک عفریت کو آزاد کر چکا ہے" اور اس عفریت کی وجہ سے  نوجوانوں میں بے چینی، ڈپریشن اور توجہ کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "اس سے پہلے کبھی اتنے زیادہ بچے اور نوجوان بے چینی اور ڈپریشن کا شکار نہیں ہوئے تھے جتنے اب ہو رہے ہیں"۔

فریڈرکسن نے مزید کہا  ہےکہ ٹیلی فون اور کمپیوٹر اسکرینیں بچوں کو ایسے مواد کے سامنے لاتی ہیں "جو کسی بچے یا نوجوان کو نہیں دیکھنا چاہیے"اور ان کی پڑھنے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔

مجوزہ قانون کے تحت کئی بڑے پلیٹ فارموں تک رسائی کو روکا جائے گا تاہم والدین 13 سال کی عمر سے بچوں کو سوشل میڈیا دیکھنے کی  اجازت دے سکیں گے۔ حکومت امید کرتی ہے کہ یہ پابندی اگلے سال تک نافذ ہو جائے گی۔

ڈیجیٹلائزیشن کی وزیر کیرولین سٹیج نے اس منصوبے کو"ایک بڑی پیش رفت" قرار دیا  اور اعتراف کیا ہے کہ ڈنمارک نے بچوں کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حوالے کرکے  "ضرورت سے زیادہ سادگی"کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا  ہے کہ "ہمیں ڈیجیٹل  کی اسیری سے رہائی پا کر  معاشرہ بننے کی طرف بڑھنا ہوگا"۔

فریڈرکسن نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ اب 11 سے 19 سال کی عمر کے 60 فیصد ڈینش لڑکے شاذ و نادر ہی اپنے دوستوں سے بالمشافہ ملاقات کرتے ہیں اور ساتویں جماعت کے 94 فیصد طلباء کے ذاتی سوشل میڈیا پروفائل ہیں۔

مزید ممالک احتیاطی اقدامات اختیار کر رہے ہیں

ڈنمارک کا یہ اقدام دنیا بھر میں بچوں کو ٹک ٹاک، یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ  کے مضمر اثرات سے بچانے کے لئے اٹھائے گئے ایسے ہی اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے۔

گزشتہ ماہ ایک فرانسیسی پارلیمانی کمیٹی نے ٹک ٹاک کے نقصان دہ اثرات کا حوالہ دے کر 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی اور نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل کرفیو کی سفارش کی تھی۔

آسٹریلیا نے  دنیا میں پہلی بار ایک بل متعارف کرایا ہے جو 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا  کو ممنوع کر دے گا۔ ٹک ٹاک، فیس بک، اسنیپ چیٹ، ریڈٹ، ایکس اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارموں کو نابالغ اکاؤنٹوں کو بلاک کرنے میں ناکامی پر 33 ملین ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جنوبی کوریا نے مارچ 2026 سے اسکول کے اوقات کے دوران ٹیلی فون اور اسمارٹ ڈیوائسوں  کے استعمال پر پابندی کے لیے قانون سازی کی ہے۔

بہت سے ممالک نے اسی طرح کی پابندیاں نافذ کی ہیں، جن میں فن لینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز اور چین بھی شامل ہیں۔

ترکیہ بھی مرحلہ وار شکل میں عمر کی حدیں متعین کرانے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور صدر رجب طیب اردوعان نے خبردار کیا ہے کہ اسکرین کی لت"ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے"۔

دریں اثنا، بچوں کی حفاظت میں ناکامی پر تنقید کے بعد، روبلوکس جیسے پلیٹ فارم بھی عمر کی تصدیق اور والدین کے کنٹرول کو سخت کر رہے ہیں۔

دریافت کیجیے
ایرانی رہنما: ایران دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ہم ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہیں
یوکرین کی ایک رہائشی عمارت پر روسی حملے میں متعدد افراد ہلاک
ایردوان اور میلونی نے مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا
اقوام متحدہ کا مشرق وسطی میں پھیلتی ہوئی جنگ کے باعث 'سنگین انسانی ہنگامی صورتحال' کا اعلان
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 36 گھنٹوں میں 3,000 سے زیادہ فضائی حملے کیے: رپورٹ
چین: مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط سے کام لیا جائے
یورپی یونین: ترک مصنوعات پر 'میڈ ان ای یو' لیبل چسپاں ہو گا
امریکہ: ہم بھارت کو چین کی طرح اپنا رقیب نہیں بننے دیں گے
امریکی تحقیقات میں ایرانی اسکول پر حملے میں امریکی کردار کی تائید ہوتی نظر آتی ہے — رپورٹ
نیپال میں 2025 کی بغاوت کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات
سعودی عرب نے 3 بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ کر دیا
ایران میں برّی کاروائی کا سوچنا فی الحال وقت کا زیاں ہو گا: ٹرمپ
اسرائیل: ہم نے، بیروت کے جنوبی مضافات پر، نئے فضائی حملے کئے ہیں
اسپین: ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے
ترک قومی خفیہ سروس کا شام میں کلیدی داعش آپریشن