لبنانی صدر جوزف عون نے ہفتے کو کہا کہ اس وقت "اسرائیل کے ساتھ کوئی نئے مذاکرات نہیں" ہو رہے، انہوں نےاسرائیلی انخلاء، قیدیوں اور بے گھر افراد کی واپسی، اور اسرائیلی حملوں سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو پر مبنی بیروت کے مطالبات کو دہرایا ۔
عون نے فوج کے کمانڈر رودولف ہیکل اور لبنانی سکیورٹی ایجنسیوں کے سربراہان کے ہمراہ نباطیہ کے جنوبی علاقے کے دورے کے دوران اخباری نمائندوں سے کہا کہ "اس وقت ہم اسرائیل کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہے" ۔
ایک امریکی عہدیدار نے جمعہ کو ایگزیوس کو بتایا تھاکہ اگلے دور کے اسرائیل–لبنان مذاکرات، جو اصل میں اگلے ہفتے روم میں ہونے تھے، موخر کر دیے گئے ہیں۔ اس کے بجائے، اسرائیلی اور لبنانی سفارت کاروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ واشنگٹن میں امریکی دفترِ خارجہ میں ملاقات کریں گے تاکہ پیش رفت اور جون کے فریم ورک معاہدے کے جاری نفاذ پر بات چیت کی جا سکے۔
بیروت کے اہم مطالبات کا اعادہ
سرکاری قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عون نے کہا کہ لبنان کی پوزیشن غیر متغیر رہی ہے اور زور دیا کہ "انخلاء، قیدیوں اور بے گھر افراد کی واپسی، اور تعمیر نو قومی اصول ہیں جن کا ہم نفاذ کرنے کا عہد کرتے ہیں۔"
لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات 14 اپریل کو واشنگٹن میں امریکی سرپرستی میں ہونے والی ایک میٹنگ کے ساتھ شروع ہوئے تھے۔ پہلے دور میں جنگ بندی معاہدے، اسرائیلی انخلاء، سرحدی امور، اور قیدیوں و لاپتہ افراد کے معاملات پر توجہ مرکوز کی گئی۔
لبنان اور اسرائیل نے 26 جون کو واشنگٹن میں امریکی سرپرستی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جس میں لبنانی سرزمین سے اسرائیلی انخلاء کا بتدریجی عمل اور ان علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کا انتظام شامل تھا جو اسرائیلی افواج کے زیرِ قبضہ تھے۔
امریکی عہدیدار کے حوالے سے ایگزوس نے بتایا کہ اگلا رسمی دور اکتوبر میں روم میں متوقع ہے۔
عون کا جنگ سے تباہ شدہ نباتیہ کا دورہ
نباتیہ کے دورے کے دوران عون نے اس سرکاری کمپلیکس کا جائزہ لیا جو اسرائیلی ہوائی حملوں میں شدید نقصان کا شکار ہوا تھا، نیز لبنان کے مرکزی بینک کی وہ عمارت دیکھی جو بمباری میں تباہ ہو گئی تھی۔
انہوں نے نباتیہ ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور مشکل حالات میں کام جاری رکھنے پر طبی عملے کی تعریف کی۔
سرکاری لبنانی اعداد و شمار کے مطابق، 2 مارچ سے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 4,400 افراد ہلاک اور لگ بھگ 12,500 زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیل جنوب لبنان کے بعض علاقوں پر قابض رہنے کی صورتحال برقرار رکھے ہوئے ہے، جن میں وہ علاقے شامل ہیں جو دہائیوں سے اس کے قبضے میں تھے اور وہ مقامات بھی جو حالیہ جنگوں اور عسکری جارحیت کے دوران حاصل کیے گئے۔




















