مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
امریکی سفارتخانوں کا شہریوں کو مشرق وسطی کے ممالک سے روانہ ہونے کا انتباہ
مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہری احتیاط کریں اور چوکس رہیں  اور پروازیں منسوخ ہونے، فضائی حدود کے وقتی بندش اور ممکنہ سفری خلل کے لیے تیار رہیں۔
امریکی سفارتخانوں کا شہریوں کو مشرق وسطی کے ممالک سے روانہ ہونے کا انتباہ
21 جولائی 2026 کو جاری کردہ ہینڈ آؤٹ ویڈیو سے حاصل کی گئی اس اسکرین گریب میں ایک نامعلوم مقام سے داغا گیا ایرانی میزائل۔ [فائل] / Reuters

متعدد مشرقِ وسطیٰ کے دارالحکومتوں میں امریکی سفارت خانوں نے امریکی شہریوں کو علاقائی تنازعے میں 'غیر متوقع شدت' کے خطرے سے خبردار کیا اور انہیں روانہ ہونے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔

متعدد مشرقِ وسطیٰ کے دارالحکومتوں میں امریکی سفارت خانوں نے امریکی شہریوں کو علاقائی تنازعے میں 'غیر متوقع شدت' کے خطرے سے خبردار کیا اور انہیں روانگی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔

ایک سیکیورٹی الرٹ میں کہا گیا، 'اس خطے میں موجود امریکی شہریوں کو روانہ ہونے پر غور کرنا چاہیے، یا صورتِ حال بگڑنے پر روانہ ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے'، اس کے مختلف نسخے عمان، مغربی یروشلم اور بغداد میں امریکی مشنز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع ہوئے۔

ان پیغامات میں شہریوں سے پرواز کی تفصیلات چیک کرنے اور مقامی حکام کی حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کا کہا گیا۔

الرٹ میں مزید کہا گیا، 'مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہری احتیاط کریں اور چوکس رہیں  اور پروازیں منسوخ ہونے، فضائی حدود کے وقتی بندش اور ممکنہ سفری خلل کے لیے تیار رہیں۔'

اردن میں امریکیوں کو وہاں موجود امریکی فوجی اڈوں کا دورہ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی، جو حال ہی میں ایرانی میزائل حملوں کی زد میں آئے تھے، اور اسرائیل میں انہیں قریب ترین بم پناہ گاہ کے مقام کا پتہ لگانے کی تاکید کی گئی۔

مغربی یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی ویب سائٹ پر شائع ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ 'ایرانی حکومت غیر متوقع ہے، جیسا کہ اس کے حالیہ فیصلوں سے واضح ہے جن میں اس نے بغیر وارننگ یا اشتعال کے خطے کے علاقوں پر حملے کیے اور (مثلاً مصر) میں حملے بڑھائے،'

بدھ کو ایک ڈرون نے مصر کے ایک بندرگاہ میں لنگرانداز امریکی ملکیت گیس جہاز کو نشانہ بنایا، جس سے آگ بھڑک اٹھی۔

مصر تفتیش کر رہا ہے لیکن ابھی تک کسی گروپ پر حملہ کرنے کا الزام نہیں لگایا گیا ہے۔

دوسری طرف ایران کی فوج نے واشنگٹن پر 'تناؤ میں اضافہ' کا الزام لگایا ہے اور خبردار کیا ہے: 'جو بھی ملک مجرم اور جارح امریکہ کے دفاعی شیلڈ کا کردار ادا کرے گا وہ جنگ کی آگ میں گھِر جائے گا۔'

اس ہفتے ایران اور امریکہ نے کئی دنوں کی خاموشی کے بعد رات کے وقت فائرنگ کے تبادلے دوبارہ شروع کیے، اگرچہ جمعہ کی شب سے ہفتہ کی صبح تک کسی حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ 28 فروری کو شرو ع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس نے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دیا۔

 

دریافت کیجیے
امریکہ: چین کے ساتھ مذاکرات "بہت کامیاب" رہے ہیں
امریکہ نے یوکرین کے لیے  $2.68 بلین کے دفاعی پیکیج کی منظوری دے دی
چلی: سابق صدر نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی دوڑ سےنام واپس لے لیا
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
امریکہ کا منشیات کی ترسیل کرنے والے جہاز پر حملہ، 4 افراد ہلاک
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے اسلحے  کی فروخت روک دی
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"