اسرائیل کی ایک عدالت نے غزہ کے لئے عازمِ سفر "گلوبل صمود فلوٹیلا" کے دو غیر ملکی کارکنوں کی حراست کو اتوار تک بڑھا دیا ہے۔
زیرِ حراست کارکنوں کی نمائندہ انسانی حقوق کی تنظیم کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہسپانوی شہری سیف ابو کشک اور برازیلی شہری تھیاغو اویلا کو گزشتہ ہفتے تفتیش کے لیے اسرائیل لایا گیا تھا۔ دونوں کارکن بروز منگل دوسری سماعت کے لیے اشکیلون شہر کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
اسرائیل کے جنوبی حصے کی ایک جیل میں قید یہ دونوں افراد غزہ جانے والے فلوٹیلا میں سوار درجنوں کارکنوں میں شامل تھے ۔ جمعرات کے روز علی الصبح یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فورسز نے اس فلوٹیلا کو روک لیا تھا۔
اتوار کو ہونے والی پہلی سماعت میں عدالت نے ابو کشک اور اویلا کی حراست میں دو دن کی توسیع کی تھی۔ منگل کو دوسری سماعت کے دوران دونوں کارکنوں کو پاؤں میں بیڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم "عدالہ" کی بین الاقوامی وکالت کی کوآرڈینیٹر مریم عاظم کی اے ایف پی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق "عدالت نے منگل کی سماعت میں دونوں کارکنوں کی حراست اتوار کی صبح تک بڑھا دی ہے"۔
اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے بھی دونوں کارکنوں کو عدالت میں لائے جانے کا مشاہدہ کیاہے۔
عدالہ کے مطابق دونوں کارکن بھوک ہڑتال پر ہیں اور منگل کو ان کے احتجاج کا چھٹا دن تھا۔ تنظیم نے پیر کے روز کہا تھا کہ دونوں کو حراست کے دوران جسمانی اور نفسیاتی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بدسلوکی کے الزامات
عدالہ نے کہا ہے کہ ابو کشک اور اویلا دونوں کو تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کی کوٹھڑیوں میں مسلسل اور"انتہائی تیز روشنی" روشن رکھی جاتی ہے۔ تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ اویلا کو "انتہائی سرد درجہ حرارت" میں رکھا جا رہا ہے۔
تنظیم کے مطابق"طبی معائنے سمیت جب بھی انہیں کوٹھڑی سے باہر نکالا جاتا ہے، ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی جاتی ہے"۔
اسرائیلی حکام نے بدسلوکی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
عدالہ نے کہا ہے کہ اتوار کی سماعت میں اسرائیلی پراسیکیوٹر نے دونوں پر لگائے گئے الزامات کی فہرست پیش کی، جن میں "جنگ کے دوران دشمن کی مدد کرنا" اور "دہشت گرد تنظیم کی رکنیت اور خدمت" شامل ہیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا
گلوبل صمود فلوٹیلا کے جہاز، اسرائیل کی جانب سے غزہ پر عائد ناکہ بندی کو توڑنے اور تباہ حال فلسطینی علاقے تک انسانی امداد پہنچانے کے زیرِ مقصد، فرانس، اسپین اور اٹلی سے روانہ ہوئے تھے ۔
تاہم ان جہازوں کو یونان کے قریب اسرائیلی فورسز نے روک لیا۔
گزشتہ سال بھی اس فلوٹیلا کی پہلی مہم کو مصر اور غزہ کے قریب اسرائیلی فورسز نے روک دیا تھا۔
اسرائیل 2007 سے غزہ پر عائد ناکہ بندی کے تحت تمام داخلی راستوں کو کنٹرول کر رہا ہے۔
اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران غزہ میں ضروری اشیاء کی شدید قلت رہی ہے اور اسرائیل نے بعض اوقات امداد کو مکمل طور پر روک بھی دیا۔






