ایک اسرائیلی یہودی ربی نے مقبوضہ مغربی کنارے کو "ارضِ اسرائیل " قرار دیا، اس علاقے میں یہودیوں کے علاوہ کسی کو رہنے کا حق حاصل نہ ہونے کا دعوی کیا اورمطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کو مقبوضہ مغربی کنارے سے بے دخل کیا جائے ۔
الجزیرہ انگلش کی بروز اتوار نشر کردہ ویڈیو میں یہودی ربی مناحیم بن شاہر کو ایک گروہ سے یہ کہتے ہوئے سُنا جا سکتا ہے کہ جو عرب، یہودی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں انہیں یہ علاقہ چھوڑ دینا چاہیے۔
نشریاتی ادارے کے مطابق بن شاہر نے یہ بھی کہا ہےکہ اگر کسی پانچ سالہ بچے کے والدین کو "دشمن" تصور کیا جاتا ہے تو اس بچے کو بھی "زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔"
تاہم اس گفتگو کی تاریخ اور صحیح مقام معلوم نہیں ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی پولیس نے اکتوبر 2025ء میں بن شاہر کو انتہا پسندانہ پیغامات پھیلانے اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر اُکسانے کے شبہے میں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی تھی۔ ربی اس سے قبل فلسطینی قصبے حوارہ کو "مکمل طور پر تباہ" کرنے کا مطالبہ بھی کر چکا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم تمام اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے جولائی 2024ء میں جاری کردہ مشاورتی رائے میں کہا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی موجودگی غیر قانونی ہے اور اس صورتحال کا "ممکنہ حد تک مختصر مدت میں" خاتمہ ہونا چاہیے۔


















