ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے مشرق وسطی کو آتش فشاں میں بدل سکتے ہیں: صدر ایردوان
ایران اور اس کے حریفوں کے درمیان تشدّد میں اضافہ پورے مشرق وسطیٰ کو وسیع تر جنگ  کی طرف گھسیٹ سکتا ہے: صدر رجب طیب اردوعان
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے مشرق وسطی کو آتش فشاں میں بدل سکتے ہیں: صدر ایردوان
اردوغان کا کہنا ہے کہ ترکیہ کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں پر گہرا افسوس ہے، اور انہوں نے انہیں ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ / AA

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان نے کہا ہے کہ ایران اور اس کے حریفوں کے درمیان تشدد میں اضافہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع تر جنگ کی طرف دھکیل  سکتا ہے۔

صدر اردوعان نے بروز ہفتہ جاری کردہ بیان میں ہر طرف سے کئے گئے حالیہ حملوں کی مذّمت کی، فوری سفارتکاری کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ ایران اور اس کے حریفوں کے درمیان تشدّد میں اضافہ پورے مشرق وسطیٰ کو وسیع تر جنگ  کی طرف گھسیٹ سکتا ہے۔

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کو  ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ،ان پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور کہا  ہےکہ یہ حملے علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ  انہوں نے خلیجی ممالک پر  ایران کے جوابی ڈرون اور میزائل حملوں پر بھی تنقید کی، انہیں ناقابلِ قبول قرار دیا اور خبردار کیا  ہےکہ اگر کشیدگی جاری رہی تو  وسیع تر بحران کا باعث بن سکتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے بروز  ہفتہ  ایران پر حملوں  نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک تازہ فوجی تنازعے  کی طرف  دھکیل دیا ہے۔  اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کا ہدف  تہران کے میزائل اثاثے تباہ کرنا اور اسے  جوہری ہتھیاروں کی  تیاری سے روکنا ہے۔

انقرہ سفارتی کوششیں تیز کر دے گا

صدر رجب طیب اردوعان  نے کہا  ہےکہ انقرہ ، پہلے جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے اور پھر مذاکرات کی دوبارہ بحالی کے لئے، سفارتی کوششیں تیز کر دے گا ۔

 انہوں نے، تشدّد کو روکنے کے لئے، تمام علاقائی کرداروں اور  خاص طور پر اسلامی دنیا کے فوری طور پر حرکت میں آنے  کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔  

اردوعان نے، ترک حکام کے جنگ کے پھیلاو کے مقابل حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا ذکر کیا اور  خبردار کیا ہے کہ اگر عقلِ سلیم غالب نہ آئی اور سفارتکاری کو موقع نہ دیا گیا تو  خطرہ ہے کہ ہمارا خطہ آگ کے گھن چکر میں داخل ہو جائے گا ۔

واضح رہے کہ ترکیہ خطے میں متعدد فریقوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس  نے،  مزید خوں ریزی روکنے کی خاطر، بحران کے حل میں   ثالثانہ خدمات کی پیشکش بھی  کی  ہے۔

دریافت کیجیے
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
غیر ملکی شہری اور سفارت کار کیف چھوڑ دیں:روس