الزائمر کے اوّلین اشارے آنکھوں میں چھپے ہوسکتے ہیں
آنکھ کے عقبی حصّے میں ہونے والی تبدیلیاں دماغی امراض کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں
الزائمر کے اوّلین اشارے آنکھوں میں چھپے ہوسکتے ہیں
دوزجے میں الزائمر کے مریضوں کی مدد کے لیے تصویروں کے ذریعے یاد دہانی کی تھراپی استعمال کی جا رہی ہے۔ (اے اے آرکائیو)

آنکھ کے عقبی حصّے میں ہونے والی تبدیلیاں دماغی امراض کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھ کے پچھلے حصے میں پائی جانے والی، متعدد اعصابی خلیات پر مشتمل  اور روشنی کے لیے حساس بافت 'ریٹینا ' میں ہونے والی تبدیلیاں دماغ کی اندرونی پرتوں میں ابھرتے ہوئے اور بیرونی طور پر ابھی محسوس نہ ہونے والے مسائل کی واضح ترین خبر دہندہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

فلوریڈا یونیورسٹی کے بائیومیڈیکل انجینئر روگو فانگ کی قیادت میں تحقیقاتی ٹیم نے ایک وسیع ڈیٹا بیس سے استفادہ کر کے چالیس ہزار سے زائد شرکاء کی تقریباً 63 ہزار ریٹینا تصاویر کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے جانچا۔

تیار کئے گئے ڈیپ لرننگ ماڈلوں نے عمر، جنس، سگریٹ نوشی، نیند کے معمول، ڈپریشن اور خون کے دباؤ جیسے ایسے کئی عوامل کا تجزیہ کیا جو براہِ راست الزائمر کے خطرے سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔

حاصل شدہ نتائج کے مطابق، جن افراد میں آنے والے سالوں میں الزائمر کی تشخیص متوقع تھی، ان کے ریٹینا میں بہت باریک ساختی تبدیلیوں کی نشاندہی ہوئی۔

خاص طور پر باریک رگوں میں تنگی، رگوں کی سختی، رگوں کی کثافت میں کمی اور بصری اعصاب کے پتلے پن والے ریٹینا میں بڑھاپے کے آثار کے ساتھ ساتھ الزائمر کے خطرے  کو بھی بڑھتے ہوئے دیکھا گیا ۔

ابتدائی مداخلت کے لیے حیاتیاتی سینسر کا کردار

ماہرین کا کہنا ہے  کہ موجودہ تشخیصی طریقے عام طور پر بیماری کے بعد کے مراحل پر مرکوز ہوتے ہیں کہ جب مداخلت کے لیے بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔

ریٹینا کی صحت جیسی  'نئی نسل حیاتیاتی علامتوں'  پر تحقیق، خطرے کے شکار  مریضوں کی، بہت ابتدائی دور میں تشخیص کو ممکن بناتی ہے۔ نتیجتاًبروقت ضروری جانچیں  کی جاسکتیں ہیں اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں لا کر اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

آج کل  ذیابیطس، گلوکوما یا آب مروارید کے مریضوں کی  تشخیص کے لئے ریٹینا کی تصاویر معمول کا حصّہ بن گئی ہیں۔ ان تصاویر میں ڈیمینشیا کے خطرے کے اشارے بھی پوشیدہ ہو سکتے ہیں، جو دماغی بیماریوں کی پیش رفت پر نگاہ رکھنے کے لیے نسبتاً کم لاگت اور آسان رسائی والا ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔

یہاں تک کہ کہا جا رہا ہے کہ ریٹینا صرف دماغ ہی نہیں بلکہ مجموعی جسمانی صحت اور ہڈیوں کی ساخت کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے والے ایک مربوط حیاتیاتی سینسر کی طرح کام کر سکتا ہے۔

دریافت کیجیے
آئی آر جی سی: ہم نے اردن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا ہے
ہم، ایران۔امریکہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے خواہش مند ہیں: فیدان
بحیرۂ کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کے ٹرمینل پر دو آئل ٹینکروں پر حملے
جاپان: اب ہم ایٹمی موضوع پر "بات کرنے سے گریز نہیں کر سکتے"
اقوام متحدہ: غزہ کے بچوں میں تیزی سے خسرہ پھیل رہا ہے
یوکرین: روسی حملوں میں ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی
امریکہ نے جزیرہ قشم کو بھی نشانہ بنایا
انگلینڈ نے فیفا ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن اپنے نام کر لی
آبنائے ہرمز پر کسی بھی ریاست کا دعوی خودمختاری "بین الاقوامی قانون کے خلاف" ہے
بھارت کا نجی خلائی دور وکرم-1 کے آغاز کے ساتھ شروع
ایران نے کویت کے بجلی اور پانی کی پلانٹس پر حملے کیے جبکہ بحرین نے ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا
عراقی وزیر اعظم نے دورہ امریکہ کے دوران 48 تجارتی معاہدے کر لیے
مشرقی ترکیہ میں ریکڑ اسکیل پر 5 کی شدت کا زلزلہ
یوکرین کے ڈراون حملے میں سات افراد ہلاک، 24 زخمی
ایران نے 7 راتوں سے جاری حملوں کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے