صدر ِ فرانس ایمانوئل میکرون نے اعتراف کیا ہے کہ فرانس نے افریقہ میں ترکیہ، چین اور امریکہ جیسے حریفوں کے مقابلے میں اپنا اثرِ رسوخ کھودیا ہے، فرانسیسی اداروں اور کمپنیوں کی دہائیوں پر محیط خود اطمینانی اور تکبر نے اس کا سبب بنا۔
افریقہ بزنس فورم کے اختتامی اجلاس سے خطاب میں، میکرون نے کہا کہ گزشتہ 25 سالوں فرانس کو افریقہ میں 'جھٹکا' لگا ہے، انہوں نے اس رجحان کو 'معمول' اور یہاں تک کہ 'مثبت' قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی کمپنیاں اور انتظامی ادارے افریقی ممالک کے ساتھ تاریخی روابط پر حد سے زیادہ انحصار کرتے رہے اور اپنی رقابت برقرار نہ رکھ سکے۔
انہوں نے کہا، 'وہ سمجھتے تھے کہ ایک مخصوص دائرہ ہے جہاں فرانسیسی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز خود بخود کھلی ہو گی۔'
میکرون نے کہا کہ افریقی ممالک زیادہ رقابت کے حامل شراکت داروں کی طرف رجوع کر کے معقول اقتصادی فیصلے کر رہے ہیں، انہوں نے براعظم میں انقرہ اور بیجنگ کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کی۔
میکرون نے کہا کہ افریقہ اب ایسے ماڈل کو قبول نہیں کرتا جو محض امداد پر مبنی ہو یا بیرونی طاقتیں افریقی منڈیوں کے لیے حل متعین کریں۔
انہوں نے 'تصوری انقلاب' کا مطالبہ کیا، اور فرانس سے کہا کہ وہ صرف امداد دینے کی 'عمودی منطق' ترک کرے اور اس کے بجائے مساوات اور شراکت پر مبنی تعلقات قائم کرے۔
میکرون نے کہا کہ نئے نقطۂ نظر کا محور افریقی اقوام کے ساتھ 'مشترکہ سرمایہ کاری، مشترکہ پیداوار اور مشترکہ ایجاد' کے ارد گرد ہونا چاہیے۔
انہوں نے افریقہ کی مضبوط اقتصادی صلاحیت پر بھی زور دیا، اور بتایا کہ حالیہ برسوں میں براعظم کی ترقی جنوب مشرقی ایشیا کی ترقی کی رفتار سے آگے نکل چکی ہے۔














