دنیا
4 منٹ پڑھنے
میکسیکن فوج کا آپریشن،مشہور کارٹیل "ال مینچو"مارا گیا
اتوار کو حالیسکو کے مغربی علاقے میں میکسیکن آرمی اسپیشل فورسز کے ایک آپریشن کے دوران سی جے این جی کے سات ارکان ہلاک ہوئے، جن میں ایل مینچو بھی شامل تھا
میکسیکن فوج کا آپریشن،مشہور کارٹیل "ال مینچو"مارا گیا
المینچو / Reuters
15 گھنٹے قبل

میکسیکو کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ نیمیسیو اوسگیرا سروانتس، جنہیں 'ایل مینچو' کے نام سے جانا جاتا تھا اور نئے جنریشن حالیسکو کارٹل (CJNG) کا مبینہ سربراہ تھا، حالیسکو کی مغربی ریاست میں ایک آپریشن کے دوران میکسیکن افواج نے ہلاک کر دیا۔

اتوار کو حالیسکو کے مغربی علاقے میں میکسیکن آرمی اسپیشل فورسز کے ایک آپریشن کے دوران سی جے این جی کے سات ارکان ہلاک ہوئے، جن میں ایل مینچو بھی شامل تھا۔

میکسیکو کی وزارت دفاع  نے کہا  ہےکہ اسپیشل فورسز نے نیشنل انٹیلی جنس سینٹر اور اٹارنی جنرل آفس کے تعاون سے ٹاپالپا- حالیسکوجو کہ سی جے این جی کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے وہاں ایک آپریشن کی منصوبہ بندی  کی اور اوسگیرا کو پکڑنے کے لیے متعدد فضائیہ کے طیارے اور نیشنل گارڈ یونٹس تعینات کیے ۔

وزارت نے بیان کیا کہ اس آپریشن کے دوران میکسیکن فوجی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا  مگر جوابی کاروائی  کے نتیجہ میں 'CJNG' نامی مجرمانہ گروہ کے چار ارکان موقع پر ہلاک ہوئے اور تین دیگر شدید زخمی ہوئے جو میکسیکو سٹی کی طرف فضائی منتقلی کے دوران زندگی کی بازی ہار گئے۔

وزارت نے یہ بھی کہا کہ دو دیگر کارٹل کے ارکان گرفتار کیے گئے اور مختلف اسلحہ ضبط کیا گیا  جس میں ایسے راکٹ لانچر بھی شامل تھے جو طیاروں کو گرانے کے قابل تھے۔

آپریشن کے دوران تین اسپیشل فورسز کے ارکان زخمی ہوئے اور انہیں میکسیکو سٹی کے طبی اداروں میں منتقل کیا گیا۔

وزارت نے کہا کہ یہ آپریشن امریکی حکام کی طرف سے دوطرفہ رابطہ کاری اور تعاون کے دائرے میں فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر انجام دیا گیا۔

امریکہ اور میکسیکو دونوں حکومتوں نے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات کے بدلے میں بالترتیب 15 ملین امریکی ڈالر اور 300 ملین میکسیکن پیسوس انعامات کا اعلان کیا تھا ۔

اوسگیرا نے سی جے این جی کی قیادت اس کے آغاز سے کی، جب یہ پہلے ملینیو کارٹل کی ایک مسلح شاخ تھا، پھر الگ ہو کر ملک کی طاقتور مجرمانہ تنظیموں میں سے ایک بن گیا اور ملک میں تشدد کا ایک بڑا سبب بن گیا۔

سابق پولیس افسر اوسگیرا نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں شہرت حاصل کی اور کارٹل کی شدید بربریت اور عالمی ڈرگ ٹریڈ میں بڑھتے ہوئے کردار کی وجہ سے بدنام ہوا۔

اس ہلاکت کے بعد منظم مجرمانہ گروپوں کی طرف سے پرتشدد ردعمل سامنے آیا جس کی اطلاعات میں سڑکیں بند ہونے، گاڑیاں جلانے اور مسلح جھڑپوں کی خبریں سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہی ہیں۔

ہالیسکو میں گورنر پابلو لیماس ناوارو نے چند علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھنے کے بعد ریڈ الرٹ جاری کیا۔ عوام  سے گھر کے اندر رہنے کی اپیل کی گئی اور عوامی نقل و حمل کی خدمات معطل کر دی گئیں۔

میکسیکو کی سیکیورٹی کابینہ نے ایک بیان میں کہا کہ وفاقی اداروں کے انجام دئیے گئے آپریشنز کے نتیجے میں حالیسکو کے بعض علاقوں میں  موجود ٹریفک رکاوٹوں کو نمٹایا جا رہا ہے جبکہ  ہماری اولین ترجیح شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہے۔”

میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شائنباؤم نے کہا کہ تمام ریاستی حکومتوں کے ساتھ ‘مکمل ہم آہنگی’ موجود ہے۔

شائنباؤم نے X پر کہا: “تمام ریاستوں کی حکومتوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی موجود ہے؛ ہمیں با خبر اور پر سکون رہنا چاہیے،” اور یہ بھی کہا کہ “ملک کے زیادہ تر حصوں میں سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔”

شائنباؤم نے اس آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی بے چینی کا اعتراف کیا اور کہا کہ دفاعی وزارت نے وفاقی فورسز کے آپریشن کے بعد 'مختلف بندشوں اور دیگر ردعمل' کے بارے میں رپورٹ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہر روز میکسیکو کے لیے امن، سلامتی، انصاف اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔”