حماس نے بروز منگل جاری کردہ بیان میں نئے اسرائیلی اقدامات کی مخالفت میں تقریباً 20 ممالک کی مشترکہ مذّمت کا خیرمقدم کیا اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس ماہ اسرائیل نے، مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول سخت کرنے کے لئے، متعصب دائیں بازو کے وزراء کی حمایت سے متعدد اقدامات کی منظوری دی ہے۔ ان اقدامات میں مقبوضہ مغربی کنارے کی زمین کا بحیثیت "ریاستی ملکیت" کے اندارج شروع کرنا اور علاقے کی زمینوں کی براہِ راست اسرائیلی گاہکوں کے ہاتھ فروخت کی اجازت دینا شامل ہے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز رات دیر گئے ترکیہ، سعودی عرب اور مصر سمیت خطّے کے اہم ممالک اور یورپی ممالک میں سے فرانس اور اسپین سمیت کُل 18 ممالک نے حالیہ اقدامات پر اسرائیل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مذّمتی بیان میں مذکورہ ممالک نے کہا ہےکہ یہ اقدامات علاقے کے زمینی حقائق کو تبدیل کرنے اور ناقابل قبول عملی الحاق میں اضافہ کرنے کی ایک کھُلی کوشش اور فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے اطلاق کو ہدف بنانے والاایک ارادی اور براہ راست حملہ ہیں"۔
صحیح سمت میں قدم
حماس نے اس مذّمت کو، قبضے کے توسیع پسندانہ منصوبوں کے مقابل، درست سمت میں اُٹھایا گیا قدم قرار دیا اور کہا ہے کہ توسیعی کاروائیاں بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں" ۔
فلسطین تحریکِ مزاحمت 'حماس ' نے ایک بیان میں، الحاق، قبضے اور جبری ہجرت کو تقویت دینے والی اسرائیلی پالیسیوں کو رکوانے کے لئے، مذّمتی بیان میں شامل ممالک سے اسرائیل پر سخت پابندیاں لگانے کی اپیل کی ہے۔
حماس نے کہا ہے کہ حالیہ اقدامات مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری " اسرائیلی جارحیت" کا حصہ ہیں۔
تقریباً تین ملین فلسطینیوں کے علاوہ، مغربی کنارے میں بین الاقوامی قانون کی رُوسے غیر قانونی بستیوں اور چوکیوں میں 500,000 سے زائد غیر قانونی اسرائیلی آبادکار رہائش پذیر ہیں ۔
ایکٹیوسٹوں کے مطابق اسرائیل کی موجودہ حکومت نے بستیوں کی توسیع میں تیزی پیدا کی اور 2025 میں 54 بستیوں کی ریکارڈ منظوری دی ہے۔











