غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل کے 14 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ریکارڈ دفاعی معاہدے
دنیا اسرائیلی طاقت کو دیکھ رہی ہے اور اس میں شراکت دار بننے کی خواہش رکھتی ہے: کاٹز
اسرائیل کے 14 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ریکارڈ دفاعی معاہدے
File/ Israel signs record $14 billion in defence deals despite Gaza genocide criticism / AFP

اسرائیل وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ "ہم نے 2024 میں، اپنی تاریخ کے بڑے ترین اور  تقریباً 15 ارب ڈالر  مالیت کے دفاعی معاہدے کیے ہیں ۔

غزہ میں جاری نسل کشی پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مذّمت کے باوجود یہ معاہدے کیے گئے اور  معاہدوں  کے  اعداد و شمار 2023 کے دفاعی مصارف کے مقابلے میں 13 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔دفاعی مصارف میں یہ اضافہ ایک ایسے دور میں کیا گیا  جب دنیا بھر کے ممالک فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں اور محصور علاقے میں انسانی بحران پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

مذکورہ معاہدوں میں سے نصف سے زیادہ  معاہدے یورپی ممالک کے ساتھ کیے گئے، اس کے بعد ایشیا۔پیسفک خطے کے ممالک کے ساتھ اور  کچھ معاہدے ان عرب ریاستوں کے ساتھ بھی کیے گئے جنہوں نے ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں  ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ  تعلقات  بحال کئے تھے۔ دیگر معاہدے شمالی امریکہ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ساجھے داروں کے ساتھ کیے گئے ہیں۔

اسرائیل وزارتِ دفاع نے کہا  ہےکہ تقریباً نصف معاہدے میزائلوں، راکٹوں اور فضائی دفاعی نظام کے تھے۔ دیگر معاہدے بکتر بند گاڑیوں، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور سائبر اور انٹیلی جنس سسٹموں کی خرید پر مبنی تھے۔ معاہدوں میں سے نصف سے زیادہ کی مالیت 100 ملین ڈالر سے زیادہ تھی۔

وزیر دفاع 'اسرائیل کاٹز 'نے دعویٰ کیا  ہے کہ اسلحے کی ریکارڈ توڑ برآمدات،7 اکتوبر کو حماس کے آپریشن سے شروع ہونے والے  غزّہ  حملے کے بعد  سے، میدان جنگ میں اسرائیلی کارکردگی کا "براہ راست نتیجہ" ہیں۔

کاٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  "دنیا اسرائیلی طاقت کو دیکھ رہی ہے اور اس میں شراکت دار بننے کی خواہش رکھتی ہے۔"

غزہ  پر اسرائیلی حملوں نے علاقے کے بیشتر حصے کو تباہ کر دیا ہے۔ غزہ  وزارت صحت کے مطابق اسرائیل، اکتوبر 2023 سے اب تک 54,000 سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کر چُکا ہے۔ مقتولین میں  زیادہ تر تعداد عورتوں  اور بچّوں کی ہے ۔

جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی مطالبات اور عوامی مظاہروں میں اضافے کے باوجود، اسرائیل جارحیت اور امداد کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اگرچہ گذشتہ ماہ محدود پیمانے پر امداد کے داخلے کی  اجازت دی گئی تھی لیکن انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق  امدادی سامان کی مقدار  ضرورت سے کہیں کم ہے۔

نسل کشی کے دوران اسلحے کی فروخت

امریکہ وزارتِ خارجہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، امریکہ نے اسرائیل کے ہاتھ تقریباً 12 ارب ڈالر کی غیر ملکی عسکری فروخت کی منظوری دی ہے ۔

جرمنی نے بھی  تل ابیب کو  اسلحے کی فراہمی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا  اورکہا  ہےکہ ہم نے اکتوبر 2023 سے اسرائیل کو 550 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی  اسلحہ برآمدات کی منظوری دی ہے۔

دیگر ممالک نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات ختم کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔

اسپین نے، منگل کو ، ایک اسرائیلی کمپنی کے ساتھ اینٹی ٹینک میزائلوں کا دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا  اعلان کیا ہے۔ برطانیہ نے  بھی آزاد تجارتی مذاکرات کو معطل کر دیا ہے۔

دیگر ممالک نے بھی غزّہ میں اسرائیلی  اقدامات کے جواب میں اسلحے کی فروخت معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریافت کیجیے
وزیر فیدان: "ہم نے یوکرین کا ایک بہت ہی سود مند دورہ کیا ہے"
اسرائیل:فلسطینی قیدیوں کی حامل جیلوں کے گرد مگر مچھ چھوڑنے پر غور
امریکہ۔ ایران کشیدگی اور بحرِ احمر میں آمدورفت کے بند ہونے کے خطرات سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
یوگنڈا میں اسکول بس حادثے میں کم از کم 21 افراد لقمہ اجل
15 جولائی اقدام بغاوت کے 10 سال اور توانائی کی بدلتی پالیسیاں
فرانس میں شدید طوفان، 13,000 گھر بجلی سے محروم
یوکرین: روسی حملوں میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں
میانمار: روہینگیا مہاجرین کی کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زیادہ افراد ہلاک
امریکی فوج کیوبا کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اختیارات پر غور کر رہی ہے: رپورٹ
امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 2 بلین ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی
سیمی فائنل میں ارجنٹائن کی کامیابی،فائنل اسپین کے ساتھ کھیلے گا
آسٹریلیا نےڈیٹا سینٹروں اور کاپی رائٹ سے متعلقہ اے آئی قوانین کا اعلان کر دیا
ملائیشیا میں کسی بھی اسرائیلی کو پایا گیا تو فوراً ملک بدر کر دیا جائے گا: انور ابراہیم
فیتو کی دفاعی صنعت میں تخریب کاری، اہم منصوبے اور حالیہ 10 برسوں میں مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفتیں
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ