دنیا
3 منٹ پڑھنے
یہودی انتہاپسندوں کا مظاہرہ "عربوں کو مار دو" اور "عربوں کے گاوں جلا دو" کے نعرے
ہزاروں اسرائیلی انتہا پسندوں نے 'قدیم شہر' کی تنگ گلیوں میں "یومِ یروشلم" مارچ کی اور  "عربوں کو مار دو" اور "عربوں کے گاوں جلا دو" جیسے نعرے لگائے
یہودی انتہاپسندوں کا مظاہرہ "عربوں کو مار دو" اور "عربوں کے گاوں جلا دو" کے نعرے
یہ مارچ 1967 کی جنگ میں مشرقی یروشلم پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور تسلط کی یاد دلاتا ہے۔ / Reuters

ہزاروں اسرائیلی انتہا پسندوں نے مقبوضہ مشرقی القدس کے 'قدیم شہر' کی تنگ گلیوں میں نام نہاد "یومِ یروشلم" مارچ کی اور  "عربوں کو مار دو" اور "عربوں کے گاوں جلا دو" جیسے نعرے لگائے۔ اس دوران متعدد فلسطینی رہائشی اپنے گھروں میں  بند رہے۔

ہر سال دسیوں ہزار  اور زیادہ تر نوعمروں اور نوجوانوں پر مشتمل اسرائیلی انتہائی دائیں بازو کے افراد ، 1967 کی عرب۔اسرائیل جنگ میں  اسرائیل کی فتح اور مشرقی القدس  پر غیر قانونی قبضے کا جشن منانے کے لئے، مقبوضہ مشرقی القدس میں مارچ کرتے ہیں۔

زیادہ تر فلسطینی آبادی پر مشتمل مشرقی القدس  پر اسرائیلی قبضے کو اقوامِ متحدہ تسلیم نہیں کرتی۔

گزشتہ برسوں میں یہ سالانہ مارچ بارہا تشدد میں تبدیل ہوتی رہی اور  اسرائیلی انتہا پسند گروہ اور شرپسند عناصر فلسطینیوں کو نسل پرستانہ نعروں، دھمکیوں اور حملوں کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

اس سال کی مارچ 28 فروری کو شروع ہونے والی اور ایران کے خلاف  امریکہ۔اسرائیل جنگ اور غزہ میں  جنگ بندی کے سائے میں کی گئی ہے۔غزّہ میں  جنگ بندی کے باوجود اسرائیل تقریباً روزانہ اس کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

قدیم شہر کے علاقے  'ویّا دولوروسا' کے فلسطینی رہائشی مصطفیٰ نے بتایا ہے کہ نوجوان اسرائیلی انتہا پسند ان کے گھر  میں داخل ہوئے، کھڑکیاں توڑیں اور "عربوں کو مار دو" کے نعرے لگائے۔

مصطفیٰ نے کہا ہے کہ"یہ ایک سیاہ دن ہے۔۔۔ میں گھر میں تھا، تقریباً 20 آبادکار اندر گھس آئے، انہوں نے دروازے توڑ دیئے۔ اگر آپ انہیں دھکا بھی دیں تو آپ کو جیل ہو سکتی ہے۔۔۔ یعنی آپ کچھ نہیں کر سکتے۔"

صورتحال ہر سال مزید بدتر ہو رہی ہے

ہزاروں اسرائیلی انتہائی دائیں بازو کے افراد قدیم شہر کے باہر مرکزی سڑکوں پر مارچ کرتے رہے۔ ان میں اسرائیلی جھنڈوں میں لپٹے نوعمر لڑکے اور گود میں بچے اٹھائے والدین بھی شامل تھے۔

اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ مارچ میں شریک  37 سالہ سالہ رووین نے کہا کہ "عیسائی اور مسلمان یہاں رہ سکتے ہیں، لیکن یہ شہر، ایک متحدہ شہر کے طور پر، یہودیوں کا ہے۔"

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر اتمار بن گویر نے اس موقع پر اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجدِ اقصیٰ کے احاطے پر دھاوا بولا۔

ایک خبر رساں ادارے کے نمائندے نے دیکھا کہ بن گویر اپنے محافظوں کے ساتھ ہجوم میں چل رہا  اور تصاویر بنوا رہا تھا۔

قدیم شہر میں بیشتر فلسطینی دکانداروں نے اپنی دکانوں  کے شٹر بند کر دیئے اور پتھروں سے بنی تنگ گلیاں خالی ہو گئیں۔

چند دکانیں اسرائیل۔فلسطین مشترکہ عوامی تحریک "اسٹینڈنگ ٹوگیدر" کے کارکنوں کی نگرانی میں کھلی رہیں۔ یہ کارکن  فلسطینی رہائشیوں اور کاروباروں کو مسلح صیہونیوں کی ہراسانی اور حملوں سے بچانے کے لیے قدیم شہر میں تعینات تھے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیو مناظر میں دیکھا گیا کہ کارکنوں کو دھکے دیئے گئے اور انتہا پسندوں نے انہیں گھیر لیا۔

یکجہتی کا مظاہرہ

ایک خبر رساں ادارے کے نمائندے اور  ویڈیو مناظر کے مطابق ہجوم  اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں تھا اور  "عربوں کو ماردو" اور "عربوں کے گاؤں جلا دو" جیسے نعرے لگا ئے۔

ہجوم میں "ہل ٹاپ یوتھ" نامی گروہ کے ارکان بھی شامل تھے۔ ہِل ٹاپ یوتھ کو  مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر تقریباً روزانہ حملوں میں ملوث ایک خطرناک غیر قانونی آبادکار تحریک قرار دیا جاتا ہے۔

غیر قانونی آبادکاروں نے صحافیوں کے ساتھ بھی جھڑپ کی اور ڈیوٹی پر موجود میڈیا نمائندوں کو فلم بندی سے روکنے کی کوشش کی۔

دریافت کیجیے
چینی صدر سے ملاقات میرے لیے اعزاز کی بات ہے:ٹرمپ
بھارت میں تیز ہواؤں کےجھکڑوں  نے 90 افراد کی جان لے لی
آسٹریلیا کا ہرمز مشن کے لیے نگراں طیارے تعینات کرنے کا اعلان
آبنائے ہرمز کو بطور ہتھیار  استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے:فیدان
ٹرمپ کا مطالبہ:چین اپنی منڈی امریکی کاروبار کےلیے کھول دے
دہشتگردی میں افغانستان ملوث ہے: پاکستان
جنگ بندی کے باوجود لبنان پر حملے،14 افراد ہلاک
نیو یارک ٹائمز  کے صفحات پر"فلسطینیوں کا جنسی استحصال"
ٹرمپ نےوینیزویلا کو  امریکہ کی"51 ویں" ریاست قرار دے دیا
لیمین یامال نےجیت کی خوشی میں فلسطینی پرچم لہرادیا
جنگ بندی ختم ہوتے ہی روس نے  یوکرین پر ڈرون حملہ کر دیا
یورپی یونین "یہود دشمن" ہے: ایتمار بن گویر
قانون سازوں نے اسٹارمر سے استعفی کا مطالبہ کر دیا
ایران جنگ کی لاگت سے امریکی شہریوں کو 37 بلین ڈالر سے زیادہ کی اضافی توانائی کی قیمتوں کا سامنا ہے — رپورٹ
بیلجیئم ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے:میکسیم پرِیوُو