غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
غزہ جنگ کے بعد ایک سال کے اندر انتخابات کی منصوبہ بندی
محمود عباس: "فوری اور مستقل جنگ بندی، غزہ میں انسانی امداد کی مکمل رسائی کو یقینی بنانا، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی، قابض افواج کا انخلا، اور جلد بحالی اور تعمیر نو کا آغاز۔" ہماری ترجیحات ہیں۔
غزہ جنگ کے بعد ایک سال کے اندر انتخابات کی منصوبہ بندی
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر (دائیں جانب) 8 ستمبر 2025ء کو لندن کے ڈاؤننگ اسٹریٹ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کرتے ہوئے۔ / AP

صدرِ فلسطین محمود عباس نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے خاتمے کے ایک سال کے اندر پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں۔

سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا  کے مطابق یہ بات انہوں نے لندن میں برطانیہ کی نئی مقرر کردہ وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی، جس میں "مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تازہ ترین صورتحال اور ریاست فلسطین اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات" پر گفتگو ہوئی۔

 عباس نےاس دوران  فلسطینی ترجیحات کو دہرایا: "فوری اور مستقل جنگ بندی، غزہ میں انسانی امداد کی مکمل رسائی کو یقینی بنانا، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی، قابض افواج کا انخلا، اور جلد بحالی اور تعمیر نو کا آغاز۔"

انہوں نے برطانیہ کے اس تاریخی فیصلے کی تعریف کی کہ وہ اس ماہ کے آخر میں نیویارک میں ہونے والی بین الاقوامی امن کانفرنس سے قبل ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کرے گا۔ انہوں نے اسے "ایک تاریخی ناانصافی کی اصلاح اور امن کے حصول کے لیے ایک نئے افق کا آغاز" قرار دیا۔

دیگر کئی مغربی ممالک، جن میں بیلجیم، فرانس، آسٹریلیا اور کینیڈا شامل ہیں، بھی اس ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

عباس نے کہا کہ "کوئی بھی جماعت یا امیدوار جو انتخابات میں حصہ لینا چاہتا ہے، اسے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے سیاسی پروگرام، بین الاقوامی وعدوں،  واحد اتھارٹی، ایک قانون، اور ایک جائز سیکیورٹی فورس کے اصول کی پابندی کرنی ہوگی۔"

فلسطین کی سیاسی بحالی

عباس نےسال 2021 میں  قانون ساز اسمبلی، صدارتی اور فلسطینی قومی کونسل کے انتخابات کے انعقاد کا ہدایت نامہ جاری کیا تھا، لیکن آج تک کوئی انتخابات نہیں ہوئے۔

جولائی میں، عباس نے 2025 کے اختتام سے قبل فلسطینی قومی کونسل کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا، جو کہ 1964 میں  القدس میں  اپنے افتتاحی اجلاس کے بعد پہلی بار ہوگا۔ پی ایل او کے بنیادی قانون کے مطابق، قومی کونسل تنظیم اعلیٰ ترین اتھارٹی ہے، جو اس کی پالیسیوں، منصوبوں اور پروگراموں کا تعین کرتی ہے۔

عباس نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ غزہ میں "فوری اور مستقل" جنگ بندی کے حصول کی کوششوں اور فلسطینی مسئلے کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وفا ایجنسی کے مطابق یہ ملاقات لندن میں ہوئی، جہاں عباس اتوار کے روز تین روزہ سرکاری دورے پر موجود تھے۔

دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تازہ ترین پیش رفت کے علاوہ فلسطین اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا۔

فلسطینی رہنما نے "بین الاقوامی قانون کی تمام اسرائیلی خلاف ورزیوں، مغربی کنارے میں آبادکاری کی توسیع، آبادکاروں کے تشدد اور الحاق کی پالیسیوں کو روکنے، تقریباً 3 ارب ڈالر کی روکی گئی فلسطینی ٹیکس آمدنی کی ترسیل کو  یقینی بنانے، اور اسلامی و عیسائی مقدس مقامات پر حملوں کو روکنے" کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے وزیر اعظم اسٹارمر اور امن کے لیے ان کی اہم کوششوں کا " دلی شکریہ" ادا کیا، اور "برطانوی حکومت کے ان مسلسل موقف کی تعریف کی جو پائیدار جنگ بندی، غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی، آبادکاری کی توسیع، آبادکاروں کے تشدد اور الحاق کو مسترد کرنے، اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے سنجیدہ کام" کی حمایت کرتے ہیں۔

عباس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ "غزہ ریاستِ فلسطین کا ایک ناقابل تقسیم حصہ ہے  اور انتظامی کمیٹی جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد اپنی ذمہ داریاں شروع کرے گی۔"

 

دریافت کیجیے
غزہ میں ایک مسجد کو نشانہ بنا کر شہید کرنے کا اسرائیل کا اعتراف
یورپی یونین کا نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی وارنٹ کے نفاذ کا مطالبہ
اسرائیلی تازہ حملوں میں غزہ میں مزید تین فلسطینی شہید
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں 'وسیع پیمانے پر' فوجی آپریشن کا حکم
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
پیس بورڈ نے غزہ میں انسانی امداد کے مراکز کا انتظام کرنے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کر دیا
اسرائیل نے دہشت گردی کا الزام لگا کر ایک خیراتی تنظیم کو بند کر دیا
اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ میں 8 فلسطینی ہلاک، درجنوں زخمی
اسرائیل عالمی رد عمل کے باعث غزہ سے جبری نقل مکانی کے منصوبے کو نئے سرے سے تشکیل دے رہا ہے
اسرائیل نے 6 لبنانیوں کو ہلاک کر دیا
اسرائیلی فوج نے دو فلسطینیوں کو قتل کر دیا
لبنان کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی حملے، 7 افراد ہلاک
غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک
اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تنازع سے ہتھیاروں پر پابندی لگ سکتی ہے — رپورٹ
اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
اسرائیل نے غزہ میں ایک فلسطینی بچے کو اس کے والد کی گود میں قتل کر دیا
قابض اسرائیلیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد پر حملہ اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا
غزہ پر اسرائیلی حملے جاری،مزید 3 فلسطینی ہلاک
سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حمایت ایک سال کی کم ترین سطح پر
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ: "مجھے رہا کیا جائے"