عینی شاہدین اور فلسطینی ریاستی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی حصے میں واقع دو فلسطینی قصبوں پر دھاوا بولا ، دکانداروں کو اپنی دکانیں بند کرنے پر مجبور کیا اور رہائشیوں پر حملے کیے۔
یہ چھاپے رش کے اوقات کے دوران کیے گئے جب قصبوں کے مرکزی علاقوں میں حکومتِ فلسطین کی طرف سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے ایک حصے کی ادائیگی کے بعد جاری عید الاضحیٰ کی خریداری کے لیے لوگوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا ۔
ہیبرون کے جنوب میں واقع علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں عینی شاہدین نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی گاڑیاں بھیڑ کے درمیان قصبے کے مرکز میں داخل ہوئیں، اس کے بعد فوجی سڑکوں میں پھیل گئے، آنسو گیس کے گولے فائر کیے اور دکانداروں کو اپنی دکانیں بند کرنے پر مجبور کیا۔
انہوں نے بتایاکہ فوجیوں نے کئی نوجوانوں کو حراست میں لیا، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھیں اور انہیں ایک دکان کے باہر جمع کر کے مارا پیٹا۔
ریاستی ریڈیو وائس آف پیلیسٹائن نے اطلاع دی ہے کہ بیت اللحم کے جنوب میں واقع بیت فجّار میں اسرائیلی فوج کےدھاوےکے دوران فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
فلسطینی اتھارٹی کی وال اینڈ سیٹلمنٹس کمیشن کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق، اپریل کے دوران اسرائیلی قابضین نے مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں اور ان کی جائیداد کے خلاف 540 حملے کیے۔
یہ حملے اس دوران ہوئے جب اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2023 میں غزہ میں اپنا وہابیانہ آغاز یعنی نسل کشی کے شروع ہونے کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں حملوں میں شدت جاری رکھی؛ جن میں قتل، گرفتاریاں اور شہروں و قصبوں پر چھاپے شامل ہیں جن میں گھروں کی تلاشی اور مکانات کی تباہی بھی شامل ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور قابضین کے حملوں میں اب تک 1,162 فلسطینی ہلاک، 12,245 زخمی اور قریباً 23,000 افراد گرفتارکیے جا چکے ہیں۔






