جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہےکہ نیٹو میں امریکہ، جرمنی کا، سب سے اہم شراکت دار ہے اور ایسا ہی رہے گا۔"
مرز نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہمارا ایک مشترکہ مقصد ہے اور وہ یہ کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔"
انہوں نے اتوار کے روزجاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ فی الحال ٹوماہاک کروز میزائل جرمنی میں تعینات نہیں کرے گا اور اس فیصلے کااُن کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مرز کے یہ بیانات واشنگٹن اور برلن کے درمیان کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں امریکہ پر تنقید کی اور کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی کوئی "ایگزٹ اسٹریٹجی" نہیں ہے اور یہ بھی کہا تھا کہ ایرانی حکومت نے مذاکرات کے دوران امریکیوں کو "ذلیل" کر دیا ہے۔
"فوجی کمی"
مرز نے جرمن سرکاری نشریاتی ادارے 'اے آر ڈی' کے لئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "اس وقت امریکیوں کے پاس اپنے لئے کافی مقدار میں ہتھیار موجود نہیں ہیں۔ معروضی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ کے لیے اس قسم کے ہتھیاری نظام فراہم کرنے کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔"
دوسری جانب ہفتے کے روز فلوریڈا میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ، جرمنی میں اپنے فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ "ہم تعداد میں نمایاں کمی کریں گےاور 5,000 سے بھی زیادہ فوجیوں کو کم کر دیا جائے گا۔"












