سیاست
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: مجھے ایران کی تازہ ترین پیشکش 'ناگوار' لگی ہے
ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات پاکستان کی شرکت کے ساتھ جاری ہیں، اور واشنگٹن کے ساتھ کام کرنے پر اسلام آباد کے حکام کی تعریف کی، لیکن خبردار کیا کہ 'یہ سفر بہت طویل ہے۔
ٹرمپ: مجھے ایران کی تازہ ترین پیشکش 'ناگوار' لگی ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوئے۔ / AP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ جنگ بندی کی تجویز سے 'مطمئن' نہیں ہیں، اور انہوں نے کہا کہ تہران ایسی چیزیں مانگ رہا ہے جن پر وہ اتفاق نہیں کر سکتے۔

ٹرمپ نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس سے روانہ ہونے سے پہلے صحافیوں سے کہا کہ 'انہیں درست معاہدہ کرنا ہوگا۔ اس وقت میں مطمئن نہیں ہوں'۔

جب پوچھا گیا کہ وہ ایران کی تجویز سے کیوں مطمئن نہیں ہیں، ٹرمپ نے کہا: 'وہ ایسی چیزیں مانگ رہے ہیں جن پر اتفاق نہیں ہو سکتا۔وہ سب ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ سب الجھے ہوئے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ مذاکرات پاکستان کی شرکت کے ساتھ جاری ہیں، اور واشنگٹن کے ساتھ کام کرنے پر اسلام آباد کے حکام کی تعریف کی، لیکن خبردار کیا کہ 'یہ سفر بہت طویل ہے۔'

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ترجیح بمباری کو دوبارہ شروع نہ کرنا ہے۔

انہوں نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ 'انسانی نقطۂ نظر سے، میں پسند کروں گا کہ نہ کیا جائے'لیکن یہ آپشن ہے: کیا ہم وہاں زوردار انداز میں جا کر انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیں، یا کچھ اور کرنا چاہیں گے؟”

توانائی اور جنگ کا ربط

ٹرمپ نے کہا کہ"انہوں نے پیش رفت کی ہے، مگر مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ وہاں تک پہنچیں گے۔" انہوں نے ایران کے رہنماؤں کے درمیان “شدید اختلاف” کی تصویر کشی کی۔

انہوں نے کہا'قیادت بہت منتشر ہے،یہ دو سے تین گروپوں پر مشتمل ہے، شاید چار۔ اور اس کے باوجود، وہ سب کوئی  معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ سب الجھے ہوئے ہیں۔'

ٹرمپ  نے ممکنہ جنگی خاتمے کو عالمی توانائی منڈیوں سے بھی جوڑا، اور کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز کے قریب تیل کے متعدد ٹینکر  پھنسے ہوئے  ہیں،  وہ جلد حرکت کر سکتے  ہیں۔

"جب جنگ ختم ہوگی تو پیٹرول کی قیمتیں ان سطحوں سے بھی کم ہو جائیں گی جو پہلے تھیں۔"

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں تہران نے اسرائیل اور ان خلیجی ممالک کے خلاف جو امریکی اثاثوں کی میزبانی کر رہے ہیں جوابی کارروائیاں کیں، اور ہرمز بند ہو گئی۔

پاکستانی ثالثی کے ذریعے 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اور اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات ہوئے، لیکن دیرپا معاہدے تک پہنچا نہیں گیا۔

بعد ازاں پاکستانی درخواست پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کی، مگر نئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

 

دریافت کیجیے
امریکی ایوانِ نمائندگان  نے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی یونیورسٹیوں پر پابندیاں عائد کر دیں
ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کے میز پر لانے کی کوششوں کے دعوؤں کو مسترد کر دیا
ٹرمپ: "اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود نہ رہتا"
امریکا اور ونیزویلا کے درمیان 'دنیا کے بڑے ترین تیل معاہدے' طے
امریکہ اور ایران کے درمیان فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: وائٹ ہاؤس
ٹرمپ انتظامیہ نےامیگرینٹ ویزا درخواستوں کو عارضی طور پر منجمد کر دیا - رپورٹ
امریکی وزیر دفاع: "ضرورت پڑنے پر ایران پر دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں"۔
یورپی یونین نے یوکرین کے یومِ آزادی کے موقع پر 7.1 بلین ڈالر کا نیا دفاعی پیکیج منظور کر لیا
اسرائیلی سیکیورٹی افسران: نتن یاہو ترکیہ کے ساتھ 'غیر ضروری' کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں — رپورٹ
جرمنی خفیہ ایجنسیوں کو وسیع پیمانے کے اختیارات دینے کی حکمت عملی میں مصروف
حزب الله، حکومتِ لبنان اسرائیل کے ساتھ سرحدی نقشے پر براہ راست مذاکرات بند کر دے
آئی او س کا ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 'تاریخی' دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
ٹرمپ کا دعویٰ: وہ نہیں چاہتے کہ انہیں مارا جائے، ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا چاہتا ہے
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا گیا
آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی: ٹرمپ
مراکشی عہدیدار: غیر قانونی نقل مکانی سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری ہے
روس: جولائی میں ماسکو پر 6,000 سے زیادہ ڈرون حملے کیے گئے
ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریئٹ میزائل سسٹم لائسنس دینے پر اتفاق کیا ہے، زیلینسکی
فرانسیسی صدر میکرون کا ترکیہ سے آگ بجھانے والے طیارے روانہ کرنے کا شکریہ
متحدہ عرب امارات کی مغربی کنارے پر دو مساجد کو نذر آتش کیے جانے کی مذمت