دنیا
3 منٹ پڑھنے
چین کا اسرائیل سے مطالبہ: غیر قانونی یہودی آبادکاری بند کی جائے
بیجنگ، فلسطین کے مسئلے کو اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی سمجھتا ہے: وزیرِ خارجہ وانگ یی
چین کا اسرائیل سے مطالبہ: غیر قانونی یہودی آبادکاری بند کی جائے
اسرائیلی آباد کار اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ فلسطینیوں اور غیر ملکی کارکنوں کو فلسطینیوں کی ملکیت والے زیتون کے باغات سے زبردستی نکالا جا رہا ہے۔

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ ملاقات میں اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں زبردستی غیر قانونی بستیاں قائم کرنا بند کرے اور اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات کو بھی واپس لے۔

چین وزارتِ خارجہ کے آج بروز جمعہ جاری کردہ بیان کے مطابق وانگ یی نے ہرزوگ کے ساتھ ملاقات میں ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بیجنگ، فلسطین کے مسئلے کو اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی سمجھتا ہے۔

وانگ یی نے کہا ہے کہ خطے میں امن اور مفاہمت کو فروغ دینا چین کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور مسئلے کے حل کا سب سے مناسب راستہ ’’دو ریاستی حل‘‘ ہے۔

 وانگ یی نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ فوری ترجیح محصور غزہ میں داخلے کے تمام راستے مکمل طور پر کھولنا ہے، تاکہ ایک انسانی ’’تباہی‘‘ کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

وانگ یی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کو زبردستی قائم کرنے کی پالیسی ختم کرنی چاہیے۔ چین بحران کے سیاسی حل اور فریقین کو جلد از جلد مذاکرات اور مشاورت کی میز پر واپس لانے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

غیر قانونی آبادکاروں کے حملے اور جانی نقصان

واضح رہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیئے جانے کے باوجود  ،1967 سے جاری اسرائیلی  قبضے کے بعد سے اب تک 5 لاکھ سے زائد غیر قانونی یہودی آبادکاروں کو مغربی کنارے میں آباد کیا جا چُکا ہے۔ اسرائیل  پر حکمران انتہائی دائیں بازو کے اتحاد کی سربراہی کرنے والے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے غیر قانونی بستیوں کی منظوری کے عمل کو تیز کر دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، سال کی پہلی ششماہی میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملے، جن میں مارپیٹ، توڑ پھوڑ اور آتش زنی جیسے واقعات شامل ہیں، روزانہ اوسطاً چھ مرتبہ پیش آئے۔ گزشتہ ہفتے آبادکاروں نے زیتون کی فصل کی چُنائی کی تصاویر بنانے والے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹو صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ حملے میں  صحافی کی  کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور اس کا کیمرا بھی چھین لیا گیا۔

دوسری جانب، اسرائیل غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ جمعرات تک کے اعداد و شمار کے مطابق، حملوں میں 1,505 فلسطینی شہید اور 5,332 زخمی ہو چکے ہیں۔

وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل، اکتوبر 2023 سے غزہ پر مسّلط کردہ نسل کُشی میں  74 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل  اور 1 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ کو  زخمی کر چکا ہے۔ اس وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں غزہ کے 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جاری کردہ اعداد و شمار حقیقی ہلاکتوں کی تعداد سے کہیں کم ہیں اور اصل تعداد تقریباً 2 لاکھ ہو سکتی ہے۔