دنیا
2 منٹ پڑھنے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان چند ہفتوں سے جاری مذاکرات کے بعد متوقع جنگ چھڑنے پر کئی ممالک کا رد عمل۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
حملے کا ہدف ایران کے بیلسٹک میزائل اور میزائل لانچرز تھے، جنہیں اسرائیل ایک سنگین خطرہ سمجھتا ہے۔ / AP
28 فروری 2026

اسرائیل اور ریاستِ متحدہ نے ہفتہ کو ایران پر حملے کیے، جس سے عملاً مشرقِ وسطیٰ ایک نئے عسکری تصادم میں پھسل گیا ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے میزائل نظام کو تباہ کرنے اور اسے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کا عہد کیا ہے۔

ان حملوں پر بین الاقوامی ردعمل :

روس:

روس کی سیکیورٹی کونسل کے نائب چیئرمین اور سابق صدر دمیتری میدویدیف:

امن  کے دعویدار  نے ایک بار پھر اپنا اصل چہرہ دکھا دیا ہے۔ ایران کے ساتھ تمام مذاکرات محض پردہ تھے—اس میں کسی کو شک نہیں تھا، اور دراصل کسی کا مذاکرت میں سنجیدہ ارادہ ہی نہیں تھا۔

سوال یہ ہے کہ کس کے پاس اپنے دشمن کے بےآبرو انجام کا انتظار کرنے کی زیادہ برداشت ہے۔ امریکہ صرف 249 سال پرانا ہے۔ سلطنتِ فارس  2,500 سال سے قبل  قائم ہوئی تھی۔  دیکھتے ہیں کہ آئندہ سو سال میں کیا ہوگا۔

لبنان

لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام نے کہا: میں پھر دہراؤں گا کہ ہم اپنے ملک میں سلامتی اور اتحاد کے لیے خطرہ ہونے والی کارروائیوں میں ہمارے ملک کو  کھینچنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن بارت آئڈے نے کہا: اسرائیل نے حملے کو احتیاطی ضرب قرار دیا ہے، مگر یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق نہیں۔ احتیاطی حملوں کے لیے فوری، قریب الوقوع خطرہ درکار ہوتا ہے۔

افریقی یونین

افریقی یونین نے حملوں کے بعد اعتدال، فوری تناؤ میں کمی اور مسلسل مکالمے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ تنازعہ براعظم کے لوگوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

افریقی ادارے کے سربراہ مہامود علی یوسف نے کہا: "مزید کشیدگی عالمی عدم استحکام کو بگاڑنے کا خطرہ رکھتی ہے، جس کے توانائی بازاروں، خوراک کی سلامتی اور معاشی لچک پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں—خاص طور پر افریقہ میں، جہاں تنازعات اور اقتصادی دباؤ  پہلے ہی زوروں  پر ہے۔"

فرانس

فرانس، جس کے مشرقِ وسطیٰ میں خاص طور پر قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن میں کئی فوجی اڈے ہیں، نے کہا کہ پیرس کی ترجیح اپنے شہریوں کی سلامتی ہے۔

ایلس رفو، وزارتِ مسلح افواج اور سابق فوجیوں کے امور کے وزیر-نمائندہ نے فرانس 2 ٹیلی ویژن کو بتایا،  ظاہر ہے کہ ایسے معاملات میں ہماری اولین ترجیح اپنے شہریوں کا تحفظ، علاقے میں اپنی فورسز کی حفاظت اور صورتحال کی حقیقی وقت میں نگرانی ہے، جو ہم کر رہے ہیں۔

دریافت کیجیے
سعودی عرب: امریکہ ہُرمز سے ناکہ اٹھائے
چین اور ہسپانیہ، منتشر ہوتے عالمی نظام کے مقابل، مضبوط باہمی تعلقات کی تلاش میں
امریکی پابندیوں میں شامل چینی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا
ہم پر حملوں میں ملوث 5 عرب ریاستیں معاوضہ ادا کریں:ایران
"ایندھن کا بحران" برقی گاڑیوں کی طلب میں اضافہ
مقبوضہ مغربی کنارے کے عملی "جزوی الحاق" کو روکا جائے: میرز
اسلام آباد میں جوہری مول تول: امریکہ کا مطالبہ 20 سال ایران کی پیشکش 5 سال
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
بن گویر کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا: میں اس جگہ کا مالک ہوں
جنگ بندی کے بعد روس-یوکرین جھڑپوں کی اطلاع
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
روس۔یوکرین ایسٹر فائربندی ختم ہو گئی
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں