دنیا
2 منٹ پڑھنے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان چند ہفتوں سے جاری مذاکرات کے بعد متوقع جنگ چھڑنے پر کئی ممالک کا رد عمل۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
حملے کا ہدف ایران کے بیلسٹک میزائل اور میزائل لانچرز تھے، جنہیں اسرائیل ایک سنگین خطرہ سمجھتا ہے۔ / AP

اسرائیل اور ریاستِ متحدہ نے ہفتہ کو ایران پر حملے کیے، جس سے عملاً مشرقِ وسطیٰ ایک نئے عسکری تصادم میں پھسل گیا ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے میزائل نظام کو تباہ کرنے اور اسے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کا عہد کیا ہے۔

ان حملوں پر بین الاقوامی ردعمل :

روس:

روس کی سیکیورٹی کونسل کے نائب چیئرمین اور سابق صدر دمیتری میدویدیف:

امن  کے دعویدار  نے ایک بار پھر اپنا اصل چہرہ دکھا دیا ہے۔ ایران کے ساتھ تمام مذاکرات محض پردہ تھے—اس میں کسی کو شک نہیں تھا، اور دراصل کسی کا مذاکرت میں سنجیدہ ارادہ ہی نہیں تھا۔

سوال یہ ہے کہ کس کے پاس اپنے دشمن کے بےآبرو انجام کا انتظار کرنے کی زیادہ برداشت ہے۔ امریکہ صرف 249 سال پرانا ہے۔ سلطنتِ فارس  2,500 سال سے قبل  قائم ہوئی تھی۔  دیکھتے ہیں کہ آئندہ سو سال میں کیا ہوگا۔

لبنان

لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام نے کہا: میں پھر دہراؤں گا کہ ہم اپنے ملک میں سلامتی اور اتحاد کے لیے خطرہ ہونے والی کارروائیوں میں ہمارے ملک کو  کھینچنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن بارت آئڈے نے کہا: اسرائیل نے حملے کو احتیاطی ضرب قرار دیا ہے، مگر یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق نہیں۔ احتیاطی حملوں کے لیے فوری، قریب الوقوع خطرہ درکار ہوتا ہے۔

افریقی یونین

افریقی یونین نے حملوں کے بعد اعتدال، فوری تناؤ میں کمی اور مسلسل مکالمے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ تنازعہ براعظم کے لوگوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

افریقی ادارے کے سربراہ مہامود علی یوسف نے کہا: "مزید کشیدگی عالمی عدم استحکام کو بگاڑنے کا خطرہ رکھتی ہے، جس کے توانائی بازاروں، خوراک کی سلامتی اور معاشی لچک پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں—خاص طور پر افریقہ میں، جہاں تنازعات اور اقتصادی دباؤ  پہلے ہی زوروں  پر ہے۔"

فرانس

فرانس، جس کے مشرقِ وسطیٰ میں خاص طور پر قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن میں کئی فوجی اڈے ہیں، نے کہا کہ پیرس کی ترجیح اپنے شہریوں کی سلامتی ہے۔

ایلس رفو، وزارتِ مسلح افواج اور سابق فوجیوں کے امور کے وزیر-نمائندہ نے فرانس 2 ٹیلی ویژن کو بتایا،  ظاہر ہے کہ ایسے معاملات میں ہماری اولین ترجیح اپنے شہریوں کا تحفظ، علاقے میں اپنی فورسز کی حفاظت اور صورتحال کی حقیقی وقت میں نگرانی ہے، جو ہم کر رہے ہیں۔

دریافت کیجیے
ہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی
صدر ایردوان کا شام  اور ترکیہ کی خفیہ سروس کے کارکنان کے لیے تہنیتی پیغام
ایلون مسک نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کو یکجا کرنے کی حمایت کر دی
امریکی تجاویز اچھی ہیں مگر سیاسی رعائیتیں ملنا مشکل ہو گا:روس
اسرائیل نے غزہ میں 2 بچوں سمیت 7فلسطینی قتل کر دیئے
ترکیہ: بائیکار  نے چھٹا سیٹلائٹ خلاء میں بھیج دیا۔
فرانس میں مظاہروں کے دوران واقعات میں 2 افراد ہلاک
سرگن یالچین قومی فٹبال ٹیم کے کوچ بن گئے
ترکیہ -لیبیا معاہدہ،ترک دفتر خارجہ کا خیر مقدم
ایران: "ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا"
مسک نے یوکرینی فوج کے زیرِ استعمال اسٹارلنک سروس کی رفتار محدود کر دی
امریکہ: ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں۔
ترک وزیر دفاع قطر روانہ، دفاعی صنعتی معاہدے پر دستخط کریں گے
ایرانی پاسدارانِ انقلاب:" آبنائے ہرمز میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو گرا دیا گیا ہے"
امریکہ: جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا