ترکیہ
4 منٹ پڑھنے
ترکیہ۔پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے: انقرہ
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ فوجی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے: ترکیہ وزارتِ قومی دفاع
ترکیہ۔پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے: انقرہ
ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے ترجمان زکی آکتورک کا کہنا ہے کہ دفاعی معاہدے میں کسی مشترکہ دشمن یا حریف کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ [فائل] / َAA

ترکیہ وزارتِ قومی دفاع نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ فوجی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے اور اس میں کسی بھی ملک کو مشترکہ دشمن یا حریف قرار نہیں دیا گیا۔

وزارتِ دفاع کی ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب میں پریس اور عوامی تعلقات کے مشیر، ریئر ایڈمرل ذکی آق تُرک نے کہا  ہےکہ ترک مسلح افواج دوطرفہ تعاون، علاقائی اقدامات اور کثیر القومی مشنوں کے تحت مختلف خطوں میں کامیابی سے فرائض انجام دے رہی اور علاقائی و عالمی امن کے تحفظ میں قائدانہ کردار ادا کر رہی  ہیں۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ

آق تُرک نے 7 اگست کو طے پانے والے 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  ہےکہ اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان موجود دوستانہ و برادرانہ تعلقات کو دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں زیادہ ادارہ جاتی اور پائیدار بنیاد فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ معاہدے کے بنیادی مقاصد میں علاقائی سلامتی اور استحکام میں کردار ادا کرنا، فوجی تعاون کو فروغ دینا اور ممکنہ بحرانوں میں مشترکہ طور پر کارروائی کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔

آق تُرک نے کہا ہے کہ"مذکورہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں کسی بھی ملک کو مشترکہ دشمن یا حریف قرار نہیں دیا گیا۔"

اعلیٰ ترین سطح پر روابط اور مرحلہ وار فوجی مشقیں

ریئر ایڈمرل آق تُرک نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر باہمی روابط کو  یقینی بنانے کے لیے وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ، سربراہانِ افواج اور مسلح افواج کے کمانڈروں پر مشتمل اسٹریٹجک سیاسی اور فوجی طریقۂ کار قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ منصوبے کی رُو سے فوجی تعاون کو مرحلہ وار فروغ دیا جائے گا۔
"اس سلسلے میں ہمارا ہدف  کمانڈ پوسٹ اور میدانی مشقوں سے آغاز کرنا اور بعد کے مراحل میں برّی، بحری، فضائی، فضائی دفاع اور بغیر پائلٹ نظاموں پر مشتمل مشترکہ مشقیں کروانا ہے۔"

آق تُرک نے زور دیا  ہےکہ ان مشقوں کا مقصد ممکنہ بحرانوں سے قبل ضروریات اور خامیوں کی نشاندہی کرنا، حاصل شدہ تجربات کو فوجی نظریے، تربیت اور منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کرنا اور مشترکہ کارروائی کی صلاحیت کو مسلسل بہتر بنانا ہے۔

مشترکہ ٹیکنالوجی اور پیداوار پر زور

انہوں نے کہا  ہےکہ دفاعی صنعت میں تعاون معاہدے کا ایک اہم جزو ہے۔اس دائرۂ کار میں صرف مصنوعات اور نظام کی فراہمی ہی نہیں بلکہ مشترکہ ترقی اور پیداوار، ٹیکنالوجی میں تعاون اور پائیدار دیکھ بھال اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنا بھی مقصود ہے۔"

خاص طور پر بغیر پائلٹ اور خودکار نظام، الیکٹرانک جنگ اور مصنوعی ذہانت سے معاون صلاحیتوں کو ترجیحی تعاون کے شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔

"نیٹو کا متبادل نہیں بلکہ تکمیلی عنصر"

بین الاقوامی سلامتی کے ڈھانچے میں 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کی حیثیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے آق تُرک نے کہا ہے کہ"مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نیٹو کا متبادل یا حریف نہیں ہے، بلکہ علاقائی سلامتی اور استحکام میں کردار کے حوالے سے  اسے بین الاقوامی سلامتی کے ڈھانچے کو مکمل کرنے والے طریقۂ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔"

آق تُرک نے کہا ہے کہ جیسے جیسے یہ نظام پختہ ہوگا اور ضروری اتفاقِ رائے حاصل ہوگا، دیگر ممالک کی شمولیت پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حتمی مقصد ایک ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کرنا ہے جو امن کے زمانے میں مؤثر طریقے سے کام کرے ممکنہ بحرانوں کے لیے تیار ہو اور ضرورت پڑنے پر ٹھوس فوجی مدد فراہم کر سکے۔

اپنے بیان کے اختتام میں انہوں نے کہا ہے کہ"ہمیں یقین ہے کہ یہ تعاون نہ صرف ہمارے ممالک کی سلامتی بلکہ علاقائی امن، استحکام اور قوّتِ مزاحمت میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔"

دریافت کیجیے
پاکستانی وزیر اعظم: مجھے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پانے پر فخر ہے
ترکیہ قومی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر جنرل کی لیبیائی عہدیداروں سے انقرہ میں مذاکرات
ترکیہ خفیہ سروس کے چیف کی غزہ امن منصوبے پر بحث کرنے کے لیے حماس کے رہنما سے ملاقات
ترکیہ وزارت خارجہ: نیتن یاہو کا مقصد علاقے میں امن و استحکام قائم کرنے میں رکاوٹ ڈالنا ہے
وزیر بولات: سارپ سرحدی چوکی ایشیائی ممالک کے لیے ایک بہت اہم ٹرانزٹ راستہ ہے
بغاوت اقدام کے دوران صدر ایردوان پر قاتلانہ حملے کے اقدام میں ملوث فیتو کا کارندہ گرفتار
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
نیٹو کا 'فرنٹ ڈور' منصوبہ ،ترک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ہدف
ہم، ایران۔امریکہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے خواہش مند ہیں: فیدان
مشرقی ترکیہ میں ریکڑ اسکیل پر 5 کی شدت کا زلزلہ
15 جولائی کے بعد خارجہ پالیسی میں آنے والی تبدیلیاں
وزیر فیدان: "ہم نے یوکرین کا ایک بہت ہی سود مند دورہ کیا ہے"
15 جولائی اقدام بغاوت کے 10 سال اور توانائی کی بدلتی پالیسیاں
فیتو کی دفاعی صنعت میں تخریب کاری، اہم منصوبے اور حالیہ 10 برسوں میں مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفتیں
15 جولائی ایک اہم تاریخی موڑ ہے: یلماز
15 جولائی کی رات کے حالات، اقدامِ بغاوت کے اہم اور فیصلہ کُن موڑ اور ملّت کی بے مثال مزاحمت
ترکیہ نے اسکولوں کو سوشل میڈیا سے طالب علموں کی تصاویر ہٹانے کا حکم دے دیا
رفائیل فیتو کی تقرری،شمالی قبرص کی مذمت