ایران نے کہا ہے کہ امریکہ یک طرفہ پابندیوں سے ہونے والے نقصانات کا بین الاقوامی سطح پر ذمہ دار ہے اور اسے معاوضے اور بحالی سمیت ایران کو پہنچائے گئے نقصانات کا مکمل ازالہ کرنا چاہیے۔
اقوام متحدہ (UN) اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ارسال کردہ مراسلے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے اقدامات کو یکطرفہ جبری اقدامات کے ذریعے چلائی جانے والی "اقتصادی دہشت گردی کی مہم" قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں۔
ایران سرکاری ٹیلی وژن IRIB کے مطابق عراقچی نے کہا ہے کہ"اسلامی جمہوریہ ایران ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانے، نقصانات کا معاوضہ اور ازالہ کرانے اور ان غیر انسانی و غیر قانونی اقدامات کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔"
عراقچی نے زور دیا ہےکہ امریکہ کی جانب سے چلائی گئی یہ مہم "بین الاقوامی قانون کے تحت تمام مادی و غیر مادی نقصانات کے معاوضے اور ازالے کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سمیت بین الاقوامی ذمہ داری پیدا کرتی ہے۔"
عراقچی نے مزید کہا ہےکہ اگر "ایران کے عوام کو غیر قانونی اور مجرمانہ اقدامات کے ذریعے پہنچنے والے نقصانات" کے نتائج سے متعلق ضروری قانونی عناصر ثابت ہوجاتے ہیں تو امریکہ "مکمل بین الاقوامی ذمہ داری" کا حامل ہوگا اور اسے انفرادی تعزیراتی ذمہ داریوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے خودمختار ریاستوں پر ان کے جائز اقتصادی مفادات اور تجارتی تعلقات تبدیل کرنے کے لیے "یکطرفہ جبری اقدامات اور ثانوی پابندیوں" کے استعمال کی مذمت اور اسے مسترد کریں۔
ایران نے ممالک سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کو تسلیم، منظور یا نافذ نہ کریں جن کا مقصد ان کے خودمختار حقوق کو واشنگٹن کی جانب سے یکطرفہ طور پر طے کردہ پالیسیوں سے مشروط کرنا ہے۔
عراقچی نے امریکا سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ "تیسرے ممالک اور ان کے شہریوں کو اپنے جائز اقتصادی تعلقات اور مفادات تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے دھمکی آمیز اور جبری اقدامات" فوری طور پر بند کرے۔
عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش سے بھی مطالبہ کیا کہ ان اقدامات کے انسانی اور انسانی حقوق سے متعلق اثرات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے، جن میں شہریوں کی خوراک، ادویات، صحت کی سہولیات، توانائی، نقل و حمل اور انسانی امداد تک رسائی پر پڑنے والے اثرات بھی شامل ہیں۔
عراقچی نے کہا کہ مستقبل میں احتساب یقینی بنانے کے لیے متعلقہ شواہد کا آزادانہ جائزہ، دستاویز بندی اور تحفظ ضروری ہے۔
"اقتصادی اخراج آپریشن"
پیر کے روز ٹرمپ انتظامیہ نے اقتصادی اخراج آپریشن شروع کیا، جو ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنے کے مقصد سے چلائی جانے والی پابندیوں کی ایک وسیع مہم ہے۔
امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا تھا کہ نافذ کی گئی پابندیاں ایرانی معیشت کے اہم شعبوں، بشمول ہوابازی، بحری جہاز رانی، سونا، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ 60 سے زائد اداروں، افراد اور بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن کا مقصد ایران کی اقتصادی شہ رگ کاٹنا ہے اور اس مہم کو انہوں نے ایرانی حکومت کا "اقتصادی گلا گھونٹنے" کے طور پر بیان کیا۔
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کو "اب تک کی غیر معمولی وسعت کی اقتصادی جنگ اور تنہائی" قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ارادہ "کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کی سب سے تباہ کن اقتصادی کارروائی" شروع کرنے کا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ جو ممالک مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے تہران کو اقتصادی "لائف لائن" فراہم کریں گے، انہیں سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف شروع کیے گئے حملوں کے بعد تہران نے خطے میں اسرائیلی اور امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں، جن کے بعد اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
جون کے وسط میں واشنگٹن اور تہران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی آزادی کا مطالبہ کرنے والی ایک یادداشتِ مفاہمت پر دستخط کیے تھے، تاہم گہرے اختلافات کے باعث معاہدے پر عمل درآمد تعطل کا شکار ہوگیا۔
گزشتہ ماہ امریکا نے ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کیے، جبکہ تہران نے بعض عرب ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنا کر جواب دیا۔



















