دنیا
2 منٹ پڑھنے
یورپی یونین کو امریکہ اور جی 7 کی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی
یورپی یونین، روسی تیل کی ترسیل روکنے کے لیے امریکہ اور دیگر جی-7 ممالک سے مربوط حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے
یورپی یونین کو امریکہ اور جی 7 کی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی
فائل: برسلز میں یورپی یونین کمیشن کے صدر دفتر کے باہر یورپی یونین کے جھنڈے لہراتے ہوئے۔ / Reuters
16 گھنٹے قبل

یورپی یونین اپنے مجوزہ 20ویں پابندی پیکیج کے تحت روسی تیل کی ترسیل روکنے کے لیے امریکہ  اور دیگر جی-7 ممالک سے مربوط حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

برسلز کے ایک سفارتی اہلکار نے روس کی سرکاری خبر ایجنسی 'تاس' کے لئے آج بروز پیرجاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ   برسلز نے واشنگٹن اور دیگر جی-7 حکومتوں کو یہ تجویز ، روسی تیل  کی نقل و حمل اور اس سے متعلقہ دیگر خدمات  پر پابندیاں بڑھانے کی ذیل میں پیش کی تھی۔

سفارت کار نے کہا ہے کہ"یورپی یونین نے امریکہ اور جی-7 کو تجویز پیش کی ہے  کہ  وہ یورپی کمپنیوں کی طرف سے  روسی تیل کی نقل و حمل  پراور روسی تیل والے  ٹینکر بحری جہازوں کو کسی بھی نوعیت کی دیکھ بھال، رسد، مالی اعانت اور بیمہ فراہمی پر مکمل پابندی عائد کرے  خواہ  یہ ٹینکر کسی بھی ملک کے پرچم بردار کیوں نہ ہوں۔ یورپی کمیشن نے امریکہ اور جی۔7 ممالک کو اپنی کمپنیوں پر اسی طرح کی پابندیاں لگانے کی دعوت دی جسے امریکہ  نے مسترد کر دیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا  ہےکہ "واشنگٹن نے، موزوں وقت اور  اپنی شرائط کے مطابق، بذاتِ خود  تدابیر اختیار کرنے  کےپہلو کو بھی خارج الامکان نہیں رکھا"۔

سفارتی شخصیت  نے مزید کہا ہے کہ اگرچہ دیگر  جی-7 ممالک  نے یورپی یونین کی مجّوزہ  پابندیوں میں شامل ہونے کو  ممکن قراردیا ہے لیکن کوئی واضح وعدہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

واضح رہے کہ فروری 2022 میں روس-یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے  روس، ایران، شام اور شمالی کوریا کو پیچھے چھوڑ کر،  دنیا کا سب سے زیادہ پابندیوں والا ملک بن چُکا ہے۔  

پابندیوں کےمانیٹر  ڈیٹا بیس کے مطابق  ماسکو پر عائد پابندیوں کی تعداد  16,500 سے زیادہ ہے اور یہ پابندیاں افراد، اداروں، جہازوں اور طیاروں کوہدف بنا کر لگائی گئی  ہیں۔