دنیا
2 منٹ پڑھنے
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
واشنگٹن انتظامیہ کا مقصد ایران کو اقتصادی طور پر مزید تنہا کرنا اور ایرانی حکومت کو مدد فراہم کرنے والے وسائل کا راستہ روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنا ہے: وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
بیسنٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ایک ”معاشی ڈی ڈے“ میں داخل ہو رہا ہے۔ / Reuters

امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے۔

بیسنٹ نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ

’’صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا، اس کی تقریباً 100 فیصد فوجی فیکٹریوں کو ختم کر دیا اور اس کے جوہری پروگرام کو دفن کر دیا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ہے کہ’’اب ہم آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ صبح ہوتے ہی ایک اقتصادی ڈی ڈے شروع ہو رہا ہے۔ یہ، ایک دشمن کے خلاف، اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی۔‘‘

بیسنٹ نے کہا  ہےکہ انتظامیہ کا مقصد ایران کو اقتصادی طور پر مزید تنہا کرنا اور ایرانی حکومت کو مدد فراہم کرنے والے وسائل کا راستہ روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ’’صدر نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں جو ہمیں ہر ادارے، ہر اختیار اور ہر ایسے اقدام کو استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں جنہیں بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ ہم کبھی استعمال نہیں کریں گے۔ ہمارا مقصد تہران کے تنہا ہونے تک اس جابر حکومت کو سہارا دینے والی ہر اقتصادی شہ رگ کو کاٹنا ہے۔‘‘

انہوں نے ایران کی حامی حکومتوں اور دیگر فریقوں کو یہ سمجھنے سے پرہیز کرنے کی بھی تنبیہ کی ہے کہ  امریکہ، واشنگٹن کی ایران پالیسی کو چیلنج کرنے والوں کو معاف کر دے گا۔

بیسنٹ نے مزید کہا ہے کہ’’اسلامی جمہوریہ نے بلیک میلنگ کو سکیورٹی ضمانت کے پردے میں چھپا کر اپنا وجود برقرار رکھا ہوا ہے۔ اسے ایران کی یقینی جوابی کاروائی اور امریکی پابندیوں کو مذاکرات کا موضوع بنا سکنےکی سوچ سے طاقت ملی ہے ۔ صدر ٹرمپ کے دور میں یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ جو لوگ تہران کی مخالفت کے خطرے سے خوفزدہ ہیں انہیں واشنگٹن کو آزمانے کی قیمت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔‘‘

بیسنٹ نے اپنی پوسٹ میں اس منصوبہ بند کاروائی کے تحت نافذ کیے جانے والے مخصوص اقتصادی اقدامات یا اس میں شامل کیے جانے والے اداروں کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

واضح رہے کہ وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے   یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیے جانے کے بعد جاری کی ہےا کہ ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

دریافت کیجیے