اسرائیل اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی پر جاری حملوں میں 12 ہزار 500 سے زائد عورتوں کو قتل کر چُکا ہے۔
قتل کی گئی ان عورتوں میں 9 ہزار سے زیادہ عورتیں مائیں تھیں۔
فلسطین وزارتِ امورِ خواتین اور فلسطین محکمہ شماریات نے فلسطین میں ہر سال 26 اکتوبر کو منائے جانے والے قومی یومِ خواتین کے موقع پر ایک مشترکہ تحریری بیان جاری کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں 12 ہزار 500 سے زائد عورتیں اپنی جانیں گنوا چکی ہیں۔ قتل کی گئی ان عورتوں میں سے 9 ہزار سے زیادہ مائیں اور 42 صحافی عورتیں بھی شامل ہیں۔
زخمیوں میں 14 فیصد خواتین ہیں
بیان کے مطابق اسی عرصے کے دوران غزہ پر اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے ایک لاکھ 75 ہزار افراد میں سے 14 فیصد خواتین ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں 28 ہزار 560 خواتین اپنے شوہروں سے محروم ہو چکی ہیں۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس وقت غزہ میں 50 ہزار حاملہ عورتیں موجود ہیں جو انتہائی نامساعد حالات میں اپنا حمل جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ اکتوبر 2023 سے اب تک خواتین میں اسقاطِ حمل کے 12 ہزار واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں 28 عورتیں قتل کر دی گئیں
بیان کے مطابق غزہ پر حملوں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج اور فلسطینی اراضی پر قبضہ کرنے والے اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں جاں بحق ہونے والے 1,216 افراد میں 28 عورتیں بھی شامل ہیں۔
اسرائیل، اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی پرجاری حملوں میں کُل 74 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل ، ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد کو زخمی اور علاقے کے تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر چکا ہے۔



















