سیاست
2 منٹ پڑھنے
ایران اور یورپی طاقتیں، ترکی میں، جوہری مذاکرات کریں گی
ایران جمعے کے روز ترکیہ میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے
ایران اور یورپی طاقتیں، ترکی میں، جوہری مذاکرات کریں گی
Iran is set to hold talks with Britain, France and Germany in Turkey on Friday, after US President Donald Trump said a nuclear deal with Tehran was "getting close" / Reuters

استنبول میں ایران اور یورپی طاقتوں کے درمیان دوبارہ  مذاکرات ہو رہے ہیں۔

 یہ ملاقات ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اس وارننگ کے بعد ہو رہی ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر یورپی طاقتوں نے ایران پر اقوام متحدہ کی وہ پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کی کوشش کی جو 2015 کے معاہدے کے تحت ہٹائی دی گئی  تھیں تو اس سے 'ناقابل واپسی' نتائج برآمد ہوں گے۔

یہ معاہدہ جسے E3 کہا جاتا ہے، چین، روس اور امریکہ کے ساتھ طے پایا تھا۔

لیکن 2018 میں، صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو منسوخ کر دیا اور ایران کے بینکاری سیکٹرپر  اور تیل کی برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

ایک سال بعد ایران نے بھی اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو کم کرنے کا فیصلہ کیا جو اقوام متحدہ کی زیرِ  نگرانی ایرانی جوہری سرگرمیوں پر پابندیوں کے بدلے  اقتصادی پابندیوں میں نرمی فراہم کرتا تھا۔

تین یورپی طاقتیں،  ایران کی طرف سے سابقہ اور امریکہ کی طرف سے یک طرفہ شکل میں منسوخ کئے گئے معاہدے کی کالعدمی  کے بعد،اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ آیا 2015 کے معاہدے کے 'اسنیپ بیک' میکانزم کو فعال کیا جائے یا نہیں۔ یہ میکانزم  کہ جس کی معیاد اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے،ایرانی عدم تعمیل کے جواب میں اقوام متحدہ کی پابندیوں  کےدوبارہ نفاذ پر مبنی ہے۔

ایران کے اعلیٰ سفارتکار نے خبردار کیا ہےکہ ایسا موقف 'ایک عالمی جوہری پھیلاؤ کے بحران کو جنم دے سکتا ہے جو بنیادی طور پر خود یورپیوں کو متاثر کرے گا۔

تاہم، فرانسیسی ہفتہ وار میگزین 'لی پوائنٹ' کے لئے رقم کردہ مقالے میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ تہران یورپ کے ساتھ اپنے تعلقات میں 'نیا باب کھولنے' کے لیے تیار ہے۔

یورپی طاقتوں کے ساتھ جمعہ کی ملاقات ایران اور امریکہ کے درمیان چوتھے دور کے جوہری مذاکرات سے ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد ہو رہی ہے۔ تہران نے ان مذاکرات کو  'مشکل لیکن مفید' قرار دیا، اور ایک امریکی عہدیدار نے کہا  تھا کہ مذاکرات نے واشنگٹن کی 'حوصلہ افزائی' کی ہے۔

عراقچی نے کہا  ہےکہ جمعہ کے مذاکرات نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر ہوں گے۔

دریافت کیجیے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں