واشنگٹن ڈی سی —
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی تعمیرِ نو اور استحکام کے لیے پہلے ' امن بورڈ' کے اجلاس میں 17 بلین ڈالر سے زائد کے وعدے حاصل کیے، ٹرمپ اور ان کے سینئر ڈپلومیٹ مارکو روبیو دونوں نے اشارہ دیا کہ بورڈ کا دائرہ فلسطینی علاقے سے آگے بڑھتا ہے۔
امن بورڈ کے 'اسٹریٹجک وژن' کو بیان کرتے ہوئے، روبیو نے 45 سے زائد ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں سے کہا کہ غزہ کی صورتحال کو موجودہ ڈھانچوں کے تحت حل کرنا ناممکن تھا۔
لہذا ہم نے اقوامِ متحدہ سے رجوع کرتے ہوئے اس گروپ کو بنانے کے لیے اقوامِ متحدہ کی منظوری حاصل کی اور ان ممالک کو اکٹھا کیا تاکہ ایک بہت ہی خاص اور منفرد حل اس مخصوص مسئلے کے لیے نکالا جا سکے۔
اعلیٰ امریکی سفارتکار نے امید ظاہر کی کہ امن بورڈعالمی تنازعات میں ثالثی کے لیے ایک وسیع تر پلیٹ فارم کا کام دے سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے امید ہے کہ یہ (بورڈ) دیگر پیچیدہ اور مشکل حالات کے لیے ایک مثال ثابت ہوگا انہیں اسی طریقے سے حل کیا جا سکے، مگر فی الحال تو توجہ اسی ایک (غزہ) پر ہے۔'
جنوری 2026 میں قائم ہو نے والے امن بورڈ کا پہلا کام غزہ کے امن منصوبے اور 2025 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد تعمیر نو کی نگرانی کرنا تھا، جس کی اسرائیل بار بار خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔
تاہم اس کے چارٹر میں ایک وسیع تر مقصد بھی درج ہے: عالمی سطح پر متنازعہ علاقوں میں استحکام اور دیرپا امن کو فروغ دینا، نہ کہ صرف غزہ تک محدود رہنا۔
ہم دوسرے مقامات پر بھی ایسے کام کریں گے
ٹرمپ نے بورڈ میں شامل ' صاحب ِ اثر شخصیات' کا خیر مقدم کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ غزہ کو 'کامیاب' اور 'پرامن' بنایا جائے گا، اس اشارے کے ساتھ کہ مداخلت کے اس ماڈل کو دیگر جگہوں پر بھی لاگو کیا جائے گا۔
'ہم دوسرے مقامات پر بھی ایسے ہی کام کریں گے۔ جگہیں سامنے آئیں گی، چیزیں ہوں گی،' ٹرمپ نے کہا، جنہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی دوسری مدت کے پہلے سال میں 'آٹھ جنگوں کو طے کیا اور نویں کا سلسلہ آنے والا ہے۔'
'ان میں سے کچھ جنگیں 32 سال طویل تھیں، 32، 34 سے 37۔ یہ بہت طویل عرصہ ہے۔ ہم نے ہر ایک کو تقریباً دو دن میں ختم کیا۔'
ٹرمپ کے اس دعوے کے مطابق کہ انہوں نے ایک سال میں 'آٹھ جنگیں' حل کر دیں، اس میں مکمل جنگ بندی، معاہدے اور جاری تنازعات کا امتزاج شامل ہے۔
وہ جن تنازعات کا وہ اکثر حوالہ دیتے ہیں ان میں آرمینیا–آذربائیجان، کانگو کی ڈیموکریٹک ریپبلک–روانڈا، اسرائیل–ایران، بھارت–پاکستان، تھائی لینڈ–کمبوڈیا، اور غزہ میں اسرائیل–حماس کی جنگ بندی شامل ہیں — جسے بورڈ آف پیس اس وقت مستقل بنانے کی کوشش کر رہا ہے — نیز مصر–اتیوپیا اور سربیا–کوسووو۔
بورڈ کے اسٹریٹجک وژن کی وضاحت کرتے ہوئے، امریکی صدر نے بورڈ آف پیس کو سب سے زیادہ نتیجہ خیز ادارہ قرار دیا، اور کہا، 'طاقت اور وقار کے لحاظ سے ایسی کوئی چیز کبھی نزدیک بھی نہیں آئی۔'
ٹرمپ نے اس موقع کو اقوامِ متحدہ پر بعض تنقیدیں واپس لینے کے لیے بھی استعمال کیا اور اقوامِ متحدہ کی مرمت کے لیے امریکی فنڈز دینے کا وعدہ کیا، جبکہ بورڈ آف پیس کو ایک نگران ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 'تقریباً اقوامِ متحدہ کی نگرانی کرے گا' تاکہ یہ 'اچھی طرح چلے،' بہتر سہولیات مہیا ہوں اور ضروری فنڈنگ ملے۔
'ہم اقوامِ متحدہ کو مضبوط کریں گے۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ اس کی سہولیات اچھی ہوں… ہم انہیں مالی طور پر مدد کریں گے، اور ہم یقینی بنائیں گے کہ اقوامِ متحدہ قابلِ عمل رہے۔ میرا خیال ہے کہ اقوامِ متحدہ میں بہت بڑی صلاحیت ہے، واقعی بہت بڑی صلاحیت۔ اس نے اس صلاحیت کے مطابق کام نہیں کیا۔'









