دنیا
3 منٹ پڑھنے
یورپی یونین: چین کے خلاف تجارتی دعوی ختم ہو گیا ہے
بیجنگ نے لتھوانیا کی درآمدی سامان پر پابندیاں ختم کر دیں جس کے بعد یورپی یونین نے 2022 کے ڈبلیو ٹی او تنازعے کو واپس لے لیا ہے
یورپی یونین: چین کے خلاف تجارتی دعوی ختم ہو گیا ہے
فائل فوٹو: عکاسی میں یورپی یونین اور چین کے پرچم دکھائے گئے ہیں۔ / Reuters

یورپی یونین نے پیر کو  جاری کردہ بیان میں،  2022 میں چین کے خلاف شروع کئے گئے، ایک تجارتی دعوے کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈبلیو ٹی او دستاویز میں کہا گیا ہے کہ "یورپی یونین (EU) تجارتی تنازعے حل کرنے والے ادارے کو بذاتِ خود مطلع کرتی ہے کہ، بیجنگ کی لتھوانیا کے لئے امتیازی تجارتی پالیسی کی وجہ سے، چین  کے خلاف شروع کئے گئے تجارتی دعوے کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس دعوے کے پیچھے کارفرما  کلیدی مقاصد حاصل ہو چکے ہیں اور متعلقہ تجارتی لین دین بحال ہو چکا ہےلہٰذا یورپی یونین  اپنی شکایت کو آگے بڑھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔"

یہ دعوی بنیادی طور پر چین کے لتھوانیا کی برآمدات کے ساتھ کیے گئے سلوک پر مبنی تھا۔

یورپی یونین نے الزام لگایا  تھاکہ چین نے لتھوانیا سے آنے والی درآمدات کو روکنے یا  رکاوٹ ڈالنے کے لیے 'امتیازی اور دباؤ پالیسیاں اختیار کی ہیں۔ ان پالیسیوں میں کسٹم کلیئرنس سے انکار، درآمدی درخواستوں کو مسترد کرنا اور دیگر یورپی کمپنیوں پر دباؤ ڈال کر اپنی رسدی زنجیر سے لتھوانیا کا مال خارج کروانا شامل تھا۔

یورپی یونین کے مطابق یہ اقدامات، تائیوان کو ولینئس میں نمائندہ دفتر کھولنے کی اجازت دیئے جانے کے بعد   لتھوانیا کو سزا دینے کے زیرِ مقصد اختیار  کیے گئے تھے۔اس اجازت کو بیجنگ نے سیاسی طور پر اشتعال انگیز قرار دیا تھا۔

پابندیوں کے دور میں تجارتی اعداد و شمار میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی۔نومبر 2021 میں لتھوانیا کی چین کو ہونے والی برآمدات تقریباً 91.4 فیصد کم ہو گئیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں نمایاں کمی تھی۔

اسی بنا پر یورپی یونین نے معاملہ ڈبلیو ٹی او میں لے جا کر استدعا کی کہ چین نے تجارتی قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔

بیجنگ نے ، لتھوانیا کے ساتھ  سفارتی تعلقات کم  کرنے کے  باوجود لتھوانین اشیاء پر باضابطہ پابندی عائد کرنے  کے  الزامات کو بارہا رَد کیا ہے۔

اگرچہ یہ کیس 2022 میں دائر کیا گیا تھا لیکن دعوے کی  کارروائی مسائل کا شکار  رہی۔

یورپی یونین نے، محّررہ بیانات کی تیاری سے متعلقہ تکنیکی وجوہات کو وجہ دِکھا کر،  جنوری 2024 میں اس کیس کو التوا میں ڈال  دیا تھا ۔

یہ  التوا، تنازعے کو وقتی طور پر غیرفعال کرنے اور یورپی یونین  کے12 ماہ کے اندر  اندر کیس کو دوبارہ  فعال  نہ کروانے کی صورت میں، کیس کے  خود بخود ختم ہو نے کا مفہوم رکھتا تھا۔

جنوری 2025 میں یورپی یونین نے کیس دوبارہ شروع کروا دیا تھا۔

دریافت کیجیے
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے
فرانس میں پھِیلتی جنگلاتی آگ،سینکڑوں افراد کا انخلا
یورپی یونین کے سفیر روس پر نئے پابندیوں کی تیاریوں میں
"الزامات بے بنیاد ہیں"عدالت میں اپنا مقدمہ چیلنج کروں گا: مادورو
امریکہ: ہم نے آج مسلسل گیارہویں رات بھی ایران پر فضائی حملے کئے ہیں
ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سِول جوہری معاہدہ منظور کر لیا
اوٹاوا، واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے پر تیار ہے: کارنی
ایران کے متعدد شہروں میں دھماکے
تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
یوکرینی ڈرونز کا ماسکو کے قریب حملہ، تیل ڈپو تباہ
آئی آر جی سی: ہم نے اردن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا ہے
بحیرۂ کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کے ٹرمینل پر دو آئل ٹینکروں پر حملے
جاپان: اب ہم ایٹمی موضوع پر "بات کرنے سے گریز نہیں کر سکتے"
اقوام متحدہ: غزہ کے بچوں میں تیزی سے خسرہ پھیل رہا ہے
یوکرین: روسی حملوں میں ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی
امریکہ نے جزیرہ قشم کو بھی نشانہ بنایا