امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ"اگلے ہفتے کے اندر" جنگ بندی میں توسیع اورآبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر ایک معاہدہ کر لیں گے۔
انہوں نے اے بی سی نیوز کو فون پر گفتگو میں کہا کہ "پیش رفت اچھی دکھائی دے رہی ہے۔"آج تھوڑی سی رکاوٹ تھی، مگر میں نے اسے فوراً درست کر دیا، جیسا کہ آپ نے شاید پہلے محسوس کیا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وہ "رکاوٹ" اس وجہ سے تھی کہ ایرانی لبنان پر اسرائیل کے حملوں سے ناخوش تھے۔
تو میں نے حزبِ اللہ سے بات کی اور کہا کوئی فائرنگ نہیں، اور میں نے بنیامین نتن یاہوسے بات کی اور کہا کوئی فائرنگ نہیں، اور دونوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ بند کر دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ "فوجی فتح سے بھی بہتر" ہو سکتا ہے۔
"یہ آسان بات نہیں ہے،" انہوں نے کہا۔ " ہم ایک بہت بڑی قوم یعنی وہ ایک بہت بڑی قوم کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں۔ ۔
"اس لیے ان کے لیے یہ آسان نہیں ہے۔ درحقیقت ہماری نظر سے بھی یہ آسان نہیں ہے۔ لیکن ہم وہ حاصل کر رہے ہیں جو ہمیں حاصل کرنا ہے۔"
جہاں تک جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مفاہمتی یادداشت کب مکمل اور متفقہ ہو گی، ٹرمپ نے کہا: "میرا خیال ہے کہ ہم اگلے ہفتے کے اندر بات کر رہے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ابھی اس پر حتمی رضا مندی نہیں دی کیونکہ "مجھے ابھی چند نکات حاصل کرنے ہیں"
بیروت کے لیے کوئی فوج نہیں جائے گی
پیر کے روز لبنان نے کہا کہ حزبِ اللہ نے امریکی پیش کش قبول کر لی ہے جس کے تحت وہ اسرائیل پر حملے روک دے گا اور اس کے بدلے میں اسرائیل جنوبی بیروت پر حملے بند کرے گا، یہ بیان اس کے بعد آیا کہ ٹرمپ نے گروپ کے ساتھ ’بہت اچھی کال‘ رپورٹ کی تھی۔
اس انتظام کے تحت، جسے حزبِ اللہ نے قبول کر لیا ہے، واشنگٹن میں لبنانی سفارت خانے کے ایک بیان کے مطابق جو لبنانی صدارت نے شیئر کیا، “دہیہ” — بیروت کے جنوبی مضافات — پر اسرائیلی حملے بند ہو جائیں گے، اس کے بدلے حزبِ اللہ اسرائیل کے خلاف حملے نہیں کرے گا۔
اسرائیل نے پیر کو لبنانی دارالحکومت کے جنوبی مضافات پر دوبارہ حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
لبنان میں اسرائیل کی بڑھتی کشیدگی، جس میں بھاری بمباری اور دو دہائیوں میں اس کی سب سے گہری زمینی مداخلت شامل ہے، نے مشرقِ وسطیٰ کی وسیع جنگ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل اور حزبِ اللہ کو کشیدگی کم کرنے پر راضی کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر کہا کہ "بیروت کی طرف کوئی فوج نہیں جائے گی، اور جو فوجیں راستے میں تھیں وہ پہلے ہی واپس موڑ دی گئی ہیں۔
اسی طرح، اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے، میری حزبِ اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے، اور انہوں نے اتفاق کیا کہ تمام فائرنگ بند ہو جائے گی — اسرائیل اُن پر حملہ نہیں کرے گا، اور وہ اسرائیل پر حملہ نہیں کریں گے۔












