سیاست
2 منٹ پڑھنے
برطانیہ اور فرانس خلیج فارس کے راستے کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کریں گے
مذاکرات کا مقصدکسی پائیدار جنگ بندی قائم ہو نے پر  حالیہ سفارتی معاہدوں کو ایک ٹھوس فوجی منصوبے میں تبدیل کرنا ہے جو حالات کی اجازت ملتے ہی نافذ کیا جا سکے۔
برطانیہ اور فرانس خلیج فارس کے راستے کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کریں گے
فوجی منصوبہ ساز ایک اہم بحری گزرگاہ کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کے لیے لندن میں جمع ہوئے۔ (تصویر: فائل) / AFP

اس ہفتے برطانیہ اور فرانس نے حکمتِ عملی تیار کرنے کے لیے 30 سے زائد ممالک کے عسکری منصوبہ سازوں کا ایک اجلاس بلایا ہے تاکہ اسٹریٹجک طور پر اہم آبنائے  ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔

یہ دو روزہ کانفرنس بدھ سے شروع ہو کر برطانیہ کے شمالی لندن میں واقع مستقل  جوائنٹ ہیڈکوارٹرز، نورث ووڈ، میں منعقد ہو رہی ہے۔

مذاکرات کا مقصدکسی پائیدار جنگ بندی قائم ہو نے پر  حالیہ سفارتی معاہدوں کو ایک ٹھوس فوجی منصوبے میں تبدیل کرنا ہے جو حالات کی اجازت ملتے ہی نافذ کیا جا سکے۔

عسکری منصوبہ سازوں نے فوجی صلاحیتوں، کمان اور کنٹرول، اور یہ کہ افواج خطے میں کیسے تعینات ہو سکیں گی، پر توجہ مرکوز کی۔

جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ حملے کیے تو 2مارچ کو تہران نے تیل اور گیس کی برآمدات کے لیے نہایت اہم  ہونے والی آبنائے ہرمز  پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔

پاکستان نے 11 تا 12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی،  اس سے قبل  8 اپریل کو ثالثی کے ذریعے 14 روزہ جنگ بندی طے پائی، جو واشنگٹن کے وقت کے مطابق بدھ کی شام ختم ہونے والی تھی۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کرے گا تاکہ تہران کو 'متحدہ پیشکش' تیار کرنے کا وقت مل سکے، یہ اعلان  پاکستانی حکام کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

مزید مذاکرات کے دور کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ بحری آمدورفت  کے  دوبارہ کھلنے کے بارے میں غیر یقینی  کی کیفیت برقرار ہے۔