اس ہفتے برطانیہ اور فرانس نے حکمتِ عملی تیار کرنے کے لیے 30 سے زائد ممالک کے عسکری منصوبہ سازوں کا ایک اجلاس بلایا ہے تاکہ اسٹریٹجک طور پر اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔
یہ دو روزہ کانفرنس بدھ سے شروع ہو کر برطانیہ کے شمالی لندن میں واقع مستقل جوائنٹ ہیڈکوارٹرز، نورث ووڈ، میں منعقد ہو رہی ہے۔
مذاکرات کا مقصدکسی پائیدار جنگ بندی قائم ہو نے پر حالیہ سفارتی معاہدوں کو ایک ٹھوس فوجی منصوبے میں تبدیل کرنا ہے جو حالات کی اجازت ملتے ہی نافذ کیا جا سکے۔
عسکری منصوبہ سازوں نے فوجی صلاحیتوں، کمان اور کنٹرول، اور یہ کہ افواج خطے میں کیسے تعینات ہو سکیں گی، پر توجہ مرکوز کی۔
جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ حملے کیے تو 2مارچ کو تہران نے تیل اور گیس کی برآمدات کے لیے نہایت اہم ہونے والی آبنائے ہرمز پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔
پاکستان نے 11 تا 12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی، اس سے قبل 8 اپریل کو ثالثی کے ذریعے 14 روزہ جنگ بندی طے پائی، جو واشنگٹن کے وقت کے مطابق بدھ کی شام ختم ہونے والی تھی۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کرے گا تاکہ تہران کو 'متحدہ پیشکش' تیار کرنے کا وقت مل سکے، یہ اعلان پاکستانی حکام کی درخواست پر کیا گیا ہے۔
مزید مذاکرات کے دور کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ بحری آمدورفت کے دوبارہ کھلنے کے بارے میں غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔










