دی واشنگٹن پوسٹ نے امریکی اور دیگر حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ امریکہ نے یوکرین کو روسی میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کے لیے درکار پیٹریاٹ فضائی دفاعی انٹرسیپٹر میزائلوں کی منتقلی کی منظوری مؤخر کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دفاعی سیکرٹری پیٹ ہگسیٹھ نے مجوزہ منتقلیوں کو باضابطہ طور پر مسترد نہیں کیا، مگر ان کی منظوری دینے کے لیے درکارکارروائیاں مکمل نہیں کیں۔ یہ تاخیر اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب وولوڈیمیر زیلنسکی کے درمیان تناؤ پھر سے بڑھ گیا ہے اور واشنگٹن اور کیف کے تعلقات عمومی طور پر بگڑ رہے ہیں۔
رپورٹ میں ایک امریکی اہلکار اور صورت حال سے واقف تین دیگر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بعض پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل یوکرین کے حامی ممالک سے آ رہے ہیں اور جنہیں ہگسیٹھ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
ایک یوکرینی اہلکار نے دی واشنگٹن پوسٹ کو گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ یوکرین کے ذخیرے میں صرف "چند" پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل ہی باقی بچے ہیں، جس سے ملک کے فضائی دفاعی نظام کے لیے گولہ بارود کی دستیابی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ہگسیٹھ نے یوکرین کے لیے کچھ امریکی امداد کی منظوری جاری رکھی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ میزائلوں کی منتقلی میں یہ تاخیر لازمی طور پر امریکی حمایت کے مکمل طور پر ختم ہونے کی علامت نہیں ہے۔
یہ اطلاع اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ اور زیلنسکی کے تعلقات دوبارہ کشیدگی کا شکار ہیں اور ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں یوکرینی صدر پر بار ہا تنقید کی ہے۔


















