ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بیکائی نے دارالحکومت تہران میں اپنے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ایجنڈے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔
عمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا مقصدآبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا اور عارضی راستہ متعین کرنا ہے۔
اس بارے میں بیکائی نے کہا ہے کہ"ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے۔ عمان کے ساتھ بات چیت ہرمز میں جہازوں کی محفوظ گزر پر مرکوز ہے۔ جب تک امریکہ کی بحری ناکہ بندی اور حملے جاری رہیں گے، ہرمز کی موجودہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔"
بیکائی نے بتایا کہ فی الحال ثالثی کرنے والا ملک پاکستان ہے اور قطر ثالثی کے عمل کی حمایت کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ چین کو خطے میں تنازع اور عدم تحفظ میں اضافے سے خدشات لا حق ہیں اور صورتِ حال مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
بیکائی نے کہا کہ ایران کے خلاف 'جارحانہ رویہ' صرف طاقت اور مزاحمت سے روکا جا سکتا ہے، اور امریکہ نہ صرف ایران بلکہ خطے کے تمام ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
بیکائی نے کہا کہ امریکہ کے علاقے میں فوجی اڈوں کے استعمال سے عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف سخت بیانات کے بارے میں انہوں نے کہا: "ہم ایرانی ہی رہیں گے ہماری اپنی اخلاقی اقدار ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم دوسروں کی بدزبانی کو بطور مثال لیں گے۔"
انہوں نے کہا کہ بیکائی نے بحرِ خزر (کاسپیئن سی) میں ایران کے بحری جہاز پر یوکرین کے حملے کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ یوکرینی حکام نے اس واقعہ کو غیر ارادی قرار دیا ہے، تاہم یوکرینی صدر وولودیمیر زلنسکی نے مختلف نوعیت کے بیانات دیے ہیں۔
"ہم دیکھ رہے ہیں کہ آیا یوکرین اس بات کی تصدیق کے لیے کوئی قدم اٹھائے گا کہ یہ واقعہ دانستہ طور پر نہیں ہوا تھا۔ ایسے واقعات کے دوبارہ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے ہم ضروری اقدامات کریں گے۔"














