سیاست
2 منٹ پڑھنے
جی 20 اجلاس کا اعلامیہ اجلاس کے اختتام سے قبل ہی منظور
اجلاس کے اعلامیہ کو عام طور پر آخر میں اپنایا جاتا ہے، لیکن اس بار اسے پہلے ہی سے منظوری حاصل ہو گئی ہے۔
جی 20  اجلاس کا اعلامیہ اجلاس کے اختتام سے قبل ہی منظور
جوہانسبرگ میں ہفتے کے روز جی 20 رہنماؤں کا سربراہی اجلاس شروع ہو گیا، جہاں مندوبین دو روزہ بات چیت کے لیے جمع ہوئے۔ / Reuters

جنوبی افریقہ کے صدر سِریل رامافوسا کے ترجمان ونسنٹ مگوینیا نے تصدیق کی ہے کہ جوہانسبرگ میں جی20 سربراہی اجلاس کے رہنماؤں نے اجلاس اعلامیہ کی منظوری دے دی۔

انہوں نے عوامی نشریاتی ادارے SABC کو ہفتے کو بتایا  کہ "ہم اس متفقہ منظوری کے قریب پہنچ رہے تھے، اور اب ہمارے پاس ایک منظور شدہ سمٹ اعلامیہ  موجود ہے"۔

مگوینیا نے کہا کہ پروگرام میں ایک"معمولی سی تبدیلی" ہوئی  ہے، جس کے تحت سمٹ اعلامیہ کو روزِ اول کے ایجنڈے میں منتقل کیا گیا  ہے— عمومی  طور پر اسے اختتام پر اپنایا جاتا ہے —دوطرفہ گفتگو کے دوران ی اس سوچ نے جنم لیا کہ اسے سیشن کے باقی حصے سے قبل اپنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہاکہ"اعلامیہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تنازعات کے حل، طاقت کے استعمال سے گریز، اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے بین الاقوامی قوانین سمیت اقوامِ متحدہ کا چارٹر مرکزی رہنمائی کا نقطہ رہے گا۔"

اعلامیہ نے موسمیاتی بحران کی سنجیدگی پر بھی زور دیا اور عالمی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کو تین گنا بڑھانے کی بین الاقوامی کوششوں کی مضبوط حمایت کا اظہار کیا۔

ہم ایک ملک کے لیے قواعد کو توڑ موڑ نہیں سکتے

جی20 رہنماؤں کا سربراہی اجلاس ہفتے کو جوہانسبرگ میں شروع ہوا جب مندوبین دو روزہ مذاکرات کے لیے جمع ہوئے۔

اس مہینے کے اوائل میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس ملاقات کے لیے کوئی امریکی نمائندہ جوہانسبرگ نہیں بھیجیں گے، اور انہوں نے جنوبی افریقہ پر سفید افریکانر آبادی کے خلاف “انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں” کرنے کا الزام لگایا — جسے جنوبی افریقی حکومت نے بارہا بے بنیاد قرار دیا ہے۔

مگوینیا نے کہا: "یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہیے کہ ایک سے زیادہ ممالک ہیں۔ ہم ایک ملک کے لیے قوانین کو بدل نہیں سکتے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ"ہمیں اُن لوگوں کا احترام کرنا چاہیے جو اس عمل کا حصہ رہے اور انتھک محنت کر کے اس جی20 کو کامیاب بنانے میں اپنا حصہ ڈالا، خاص طور پر اب جب کہ اعلامیہ بھی منظور ہو چکا ہے۔"

 

دریافت کیجیے
اسرائیل: مقبوضہ مشرقی القدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا جائے
امریکہ کے ایرانی ٹینکروں پر حملے، مشرق وسطی میں تناؤ بڑھ گیا
نیتین یاہو نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے:نفتالی بینیٹ
نیوزی لینڈ: اسرائیلی کاروائیاں پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
جب تک حملہ آور پشیمان نہیں ہوتے ایران مزاحمت جاری رکھے گا: پزشکیان
ترک دفترِ خارجہ کی طرف سے ملادچ کے لیے آخری رسومات کے خصوصی اہتمام پر رد عمل
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا
ترکیہ: جنگی مجرم کی تکریم ناقابلِ قبول اور مذموم حرکت ہے
برطانیہ پر پابندی اور اس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے:اسرائیلی وزرا
حماس کا اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے شواہد چھپانے کا الزام
کینیڈا نے امریکی سامان پر 20 بلین ڈالر کے ٹیرف لگا دیئے
روس کے کیف پر میزائل اور ڈراون حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے
حوثیوں کے  حملے، سعودی عرب کی مذمت
امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان نے مشترکہ فوجی مشق شروع کر دیں
ترکیہ میں عجائب گھروں کی تعداد 2025 میں سالانہ 4.4 فیصد بڑھ کر 664 ہو گئی