پاکستانی وزارتِ خارجہ کے منگل کے ایک بیان کے مطابق ،بحرین نے ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تین طرفہ دفاعی معاہدے پر پاکستان کو مبارکباد دی ہے۔
یہ تبصرہ پیر کو پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے بحرینی ہم منصب عبداللطیف بن راشد الزیانی کے درمیان فون کال کے دوران آیا۔
الزیانی نے قریبی مستقبل میں پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
ڈار نے پاکستان کے “مکالمہ اور سفارت کاری کو فروغ دے کر خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے حصول کے لیے پختہ عزم” کا اظہار کیا۔
بروز جمعہ کو ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تمام تینوں پر حملہ سمجھتا ہے اور اجتماعی روکتھام کو مضبوط بنانے اور دفاعی تعاون کو وسیع کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
یہ معاہدہ ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان برسوں کی مشاورت کے بعد آیا ہے جس کا مقصد دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا اور اپنے اسٹریٹجک مفادات کی بنیاد پر مشترکہ سلامتی کے چیلنجوں کے جواب میں اقدامات کو مربوط کرنا تھا۔
یہ پیش رفت ایران اور امریکہ کے مابین تنازع کے بعدآبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافے کے دوران سامنے آئی، جس نے عالمی توانائی کی فراہمی اور سمندری سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا کیے ہیں، اگرچہ بحری راستوں کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔



















